بلوچستان: مسلح حملوں میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایف سی کے مطابق جن تنظیموں کے خلاف کارروائی کی وہ شدت پسندی کے واقعات کی منصوبہ بندی کر رہے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے بولان میں فرنٹیئر کور نے ایک سرچ آپریشن میں متعدد شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ شہر اور پشین میں مسلح افراد کے حملوں میں پولیس اور لیویز فورس کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

فرنٹیئر کور بلوچستان کے ایک بیان کے مطابق جمعے کو کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی سمیت دو کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے کیمپوں کے خلاف سنی، شوران اور امپادہ کے علاقوں میں ہیلی کاپٹرز کی مدد سے آپریشن کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کمیپوں میں موجود لوگ ریل گاڑیوں پر حملوں، گیس پائپ لائنوں کواُڑانے کے علاوہ جرائم کے دیگر واقعات میں ملوث تھے جبکہ وہ نیشنل ہائی وے پر پبلک ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانے کی بھی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

کالعدم یونائیٹڈ بلوچ آرمی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایف سی کے آپریشن میں عام شہریوں کو ہدف نایا گیا تاہم اس الزام کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب دو مختلف واقعات میں پولیس اور لیویز فورس کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

لیویز فورس کے اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ سے متصل ضلع پشین کے علاقے خانوزئی میں پیش آیا۔

پشین میں لیویز فورس کے اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں فورس کی ایک چیک پوسٹ قائم تھی جس پر مسلح افراد کے حملے میں فورس کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔

اہلکار نے بتایا کہ لیویز فورس کے اہلکاروں کی جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا جبکہ اس کے ایک ساتھی کوگرفتار کر لیا گیا۔

اہلکار کے مطابق گرفتار کیے جانے والے شخص کے قبضے سے ایک پسٹل، ایک واکی ٹاکی سیٹ اور ایک موٹر سائیکل برآمد ہوا ہے۔

پولیس اہلکار کی ہلاکت کا واقعہ کوئٹہ شہر کے شمال مشرق میں واقعہ کلی ناصران میں پیش آیا۔

کوئٹہ پولیس کے مطابق اس علاقے میں کینٹ پولیس سٹیشن کی چیک پوسٹ پر چار پولیس اہلکار تعینات تھے جہاں مسلح افراد کے حملے ایک پولیس اہلکار مارا گیا ۔حملہ آور فرار ہوتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے دو ’اے کے 47 ‘خودکار رائفلیں بھی چھین کر لے گئے۔

اسی بارے میں