عمران خان اور طاہر القادری اشتہاری قرار دے دیے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عمران خان اور طاہر القادری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے گرفتار کرتے تو امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی تھی: پولیس

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وفاقی دارالحکومت کے ایس ایس پی آپریشنز کو زدوکوب کرنے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کو اشتہاری قرار دیا ہے۔

عدالت نے ان رہنماؤں کو اسلام آباد پولیس کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر جمعے کو اشتہاری قرار دیا۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل سید طیب ایڈوکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس درخواست کی سماعت کے دوران اُنھوں نے دلائل دیے کہ فاضل عدالت کی طرف سے ان ملزمان کی جاری ہونے والے وارنٹ گرفتاری کے بعد پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کرسکی ہے اور نہ ان افراد نے خود کو پولیس کے سامنے پیش کیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس مقدمے کے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ یہ افراد تو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے روزانہ تقریریں کرتے رہے ہیں تو پھر اُنھیں وہاں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اگر ان ملزمان کو وہاں پر گرفتار کرنے کی کوشش کی جاتی تو وہاں امن وامان خراب ہونے کا خدشہ تھا اس لیے عمران خان اور طاہر القادری کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے سے گرفتار نہیں کیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 کے تحت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے رہنماؤں کو اشتہاری قرار دے دیا۔

عدالت نے پولیس کو ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کے اس عدالتی حکم کی کاپیاں عمران خان اور طاہرالقادری کے گھروں کے علاوہ عوامی مقامات پر بھی چسپاں کرنے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سرکاری ٹیلی ویژن اور پارلیمنٹ ہاؤس پر حملوں کے مقدمات میں عمران خان اور طاہرالقادری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اس کے علاوہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں طاہر القادری کو اشتہاری قرار دیا ہوا ہے اور اُنھیں دسمبر کے پہلے ہفتے میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

پاکستان عوامی تحریک کی مقامی قیادت کے بقول اُن کی جماعت کے سربراہ طاہرالقادری اس ماہ کے آخر میں پاکستان واپس آئیں گے۔

اسی بارے میں