کراچی: پولیس موبائلوں پر حملے، ایک اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹارگٹڈ آپریشن کے آغاز کے بعد سے کراچی میں اب تک سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس پر دو حملوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک اہلکار سمیت چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس مطابق جمعے کو پولیس پر حملے کا پہلا واقعہ شہر کے مصروف ترین علاقے صدر میں تبت سینٹر کے قریب پیش آیا۔

کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو نے بی بی سی کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر موجود ایک پولیس موبائل پر کریکرز سے حملہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں پولیس اہلکار تو محفوظ رہے تاہم تین راہ گیر زخمی ہو گئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

سی سی پی او کراچی کے مطابق دوسرا حملہ بریگیڈ تھانے کی پولیس موبائل پر کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ نامعلوم مسلح افراد نے معمول کا گشت ختم کر کے تھانے واپس جانے والی موبائل میں موجود اہلکاروں پر فائرنگ کی جس سے اے ایس آئی ارشد تنولی ہلاک اور ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔

حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے اہلکار کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

غلام قادر تھیبو نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پولیس پر ہونے والے حملے گذشتہ روز جرائم پیشہ افراد کے خلاف کی جانے والی پولیس کی کارروائی کا ردِ عمل ہو سکتا ہے جس میں پریڈی تھانے کے سابق ایس ایچ او غضنفر کاظمی کے قتل میں ملوث ایک ملزم مارا گیا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ ’یہ پولیس کے حوصلے پست کرنے کی سازش ہے اور ہم اِس معاملے میں تفتیش کر رہے ہیں۔‘

کراچی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’تازہ واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر نے کے لیے ناکہ بندی کر دی گئی ہے اور جلد واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیں گے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لیے رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے آغاز کے بعد سے کراچی میں اب تک سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں