دتہ خیل میں جھڑپ و بمباری:’فوجی اہلکاروں سمیت37 افراد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ PAF
Image caption آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب میں اہداف کے مطابق پیش رفت جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب جاری ہے اور فوجی حکام کے مطابق دتہ خیل کے علاقے میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ اور جٹ طیاروں کی تازہ فضائی بمباری میں افسر سمیت تین فوجی اہلکار اور 34 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان فوج کے تعلقاتِ عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دتہ خیل کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران فوج اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں آفسر سمیت تین فوجی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے جبکہ سات شدت پسند مارے گئے۔

فوج اور شدت پسندوں کے درمیان یہ جھڑپ گذشتہ شب ہوئی تھی۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ایک اور پیغام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دتہ خیل میں جٹ طیاروں کی تازہ فضائی بمباری میں 27 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

اس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اہم شدت پسند کمانڈر اور غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب میں اہداف کے مطابق پیش رفت جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوج اور شدت پسندوں کے درمیان یہ جھڑپ گذشتہ شب ہوئی تھی

اس سے پہلے سنیچر کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے آپریشنل کمانڈر میجر جنرل ظفر اللہ خان خٹک نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کو پانچ ماہ مکمل ہو گئے ہیں اور اس دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ کے عناصر سے اس علاقے کو صاف کر دیا گیا ہے۔

فوج کی طرف سے سنیچر کو فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ ماہ میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200 سے زیادہ شدت پسند ہلاک اور 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں۔

میجر جنرل ظفر اللہ کے بقول شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن میں شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی، میرانشاہ، دتہ خیل، بویا اور دیگان کا بڑا علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کر دیا گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن کے باعث حقانی نیٹ ورک شمالی وزیرستان سے افغانستان چلا گیا ہے۔آپریشنل کمانڈر نے مزید کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے استعمال میں مختلف گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

بارودی مواد کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میرانشاہ سے سکیورٹی فورسز نے 7000 کلو گرام جبکہ میر علی سے 23000 کلوگرام بارودی مواد برآمد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 4000 سے زیادہ بارودی سرنگیں تباہ کی گئی ہیں۔

آپریشنل کمانڈر نے امریکہ کے محکمہ دفاع کی اس رپورٹ کو بھی رد کیا کہ پاکستانی فوج شدت پسندوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

میجر جنرل ظفراللہ نے بتایا کہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے کمانڈروں کو بھی فوجی آپریشن میں ہلاک کیا گیا ہے اور اس تنظیم کا شمالی وزیرستان میں نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چین کے نمائندوں کو بھی میر علی لایا گیا تھا اور ان کو دکھایا گیا تھا۔

میجر جرنل ظفر اللہ نے کہا ’پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کی تقریباً ڈھائی ارب روپے کی جنگی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان میں وہ رقم شامل ہے جو ہتھیار خریدنے، اسلحہ، انفراسٹرکچر، تیار آئی ای ڈی، بارودی مواد، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، مواصلاتی نظام وغیرہ شامل ہیں۔‘

Image caption شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کے حوالے سے میجر جنرل ظفراللہ نے کہا تھا اس کے لیے کہ کوئی وقت نہیں دیا جا سکتا

ضرب عضب کے حوالے سے اعدادوشمار دیتے ہوئے آپریشن کمانڈر نے بتایا کہ پانچ ماہ میں پاکستانی فوج کے 42 افسر اور اہلکار ہلاک جبکہ 155 زخمی ہوئے ہیں۔

میجر جنرل ظفر اللہ نے بتایا تھا کہ ’11 نجی جیل، 191 خفیہ خندقیں، 39 آئی ای ڈی فیکٹریاں، 4991 تیار آئی ای ڈی، 132 ٹن بارودی مواد، 2470 سب مشین گنیں، 293 مشین گنیں، 111 بھاری اسلحہ تحویل میں لیا گیا ہے۔‘

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی کے حوالے سے میجر جنرل ظفراللہ نے کہا تھا اس کے لیے کہ کوئی وقت نہیں دیا جا سکتا۔