انسدادِ پولیو کی تین روزہ مہم آج سے شروع

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے 332 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں انسداد پولیو کی تین روزہ مہم آج سے شروع کر دی گئی ہے جس میں حکام کے مطابق ایک لاکھ 28 ہزار بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

شدت پسندوں کی جانب سے انسداد پولیو مہم کی مخالفت اور علاقے میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے یہ مہم سخت حفاظتی انتظامات میں شروع کی گئی ہے۔

یہ مہم تحصیل لنڈی کوتل، تحصیل جمرود کے علاوہ بازار زخہ خیل اور تیراہ میدان کے علاقے میں شروع کی گئی ہے جبکہ تحصیل باڑہ میں فوجی آپریشن کی وجہ سے اس وقت یہ مہم شروع نہیں کی جا رہی۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے لیے قائم انسداد پولیو کنٹرول روم سے ڈاکٹر وزیر اکبر خان نے بتایا کہ باڑہ میں فوجی آپریشن جاری ہے اس لیے وہاں یہ مہم شروع نہیں کی جا سکی۔

اس مہم کے دوران ایک لاکھ 28 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے لیے 332 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان ٹیموں کی حفاظت کے لیے پولیٹیکل انتظامیہ نے خاصہ دار اور لیویز فورس تعینات کی ہیں۔

قبائلی علاقوں میں اس ماہ کی دس تاریخ کو انسداد پولیو مہم شروع کی گئی تھی لیکن سکیورٹی وجوہات کی بنا پر خیبر ایجنسی میں یہ مہم معطل کر دی گئی تھی۔

اس سال اب تک شمالی وزیرستان ایجنسی کے بعد سب سے زیادہ پولیو کے مریض خیبر ایجنسی سے سامنے آئے ہیں جن کی تعداد 59 بتائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک لاکھ 28 ہزار بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے دیے جائیں گے

پاکستان سے اس سال اب تک کل 247 بچے پولیو کے وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قبائلی علاقوں میں یعنی 158 بچوں میں اس مہلک بیماری کا وائرس پایا گیا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں 49 اور سندھ میں 25 جبکہ بلوچستان میں 11 اور پنجاب میں تین بچے اس وائرس کی زد میں آئے ہیں۔

پاکستان سے اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا پولیو کے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے لیے انسداد پولیو مہم کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں حکام نے آئندہ ماہ سے انسداد پولیو کی بھرپور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں وہ علاقے جو پولیو وائرس کے حوالے سے زیادہ خطرناک ہیں، وہاں انسداد پولیو کی مہم شروع کی جائیں گی۔

ان علاقوں میں پشاور ، بنوں ڈیرہ اسماعیل خان اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دسمبر سے جنوری تک سردی کی وجہ سے انسداد پولیو کی ویکسین زیادہ موثر ہوتی ہے اس لیے ان دنوں میں بہتر اور معیاری مہم سے اس وائرس کو ختم کرنے میں مدد ملے گی ۔

اسی بارے میں