خیبر ایجنسی میں ایف ایم ریڈیو نشریات دوبارہ شروع

Image caption منصوبے کے تحت خیبر ریڈیو کے علاوہ اگلے سال قبائلی علاقوں میں مزید چار ایف ایم ریڈیو سٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایف ایم ریڈیو خیبر کی نشریات ایک ایسے وقت میں دوبارہ شروع کی گئی ہیں جب علاقے میں فوجی آپریشن جاری ہے ۔ دیگر چار قبائلی ایجنسیوں میں بھی اسی طرح کے ریڈیو سٹیشن قائم کیے جائیں گے۔

ریڈیو خیبر کی نشریات چند روز پہلے شروع کی گئی ہیں۔ یہ نشریات تین گھنٹے صبح اور تین گھنٹے شام ہوتی ہیں جن میں زیادہ وقت حکومت کےترقیاتی منصوبوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

فاٹا سیکریٹیرٹ کے ترجمان فضل اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف ایم ریڈیو کی نشریات دوبارہ شروع کرنے کی منظوری عوامی مطالبے پر دی گئی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ریڈیو سٹیشن سے مقامی قبائلی عوام کو حالات سے آگاہی ہو گی اور اس سے یہ تاثر رد کیا جائے گا کہ قبائلی علاقوں میں صرف تباہی ہو رہی ہے کیونکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور قبائلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔

اس منصوبے کے تحت چار مزید ریڈیو سٹیشن قبائلی ایجنسوں باجوڑ، مہمند، کرم اور اورکزئی ایجنسی میں اگلے سال قائم کیے جائیں گے جس کے لیے منظوری آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں حاصل کی جائے گی ۔

ریڈیو خیبر کوئی ڈیڑھ سال پہلے فنڈز کی کمی کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔ امریکی امداد یو ایس ایڈ کے تحت سال 2004 میں قبائلی علاقوں میں چار ایف ایم ریڈیو سٹیشن قائم کیے گئے تھے۔

یہ ریڈیوسٹیشن خیبر ایجنسی کے علاوہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا، شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ اور رزمک میں قائم تھے ۔ وانا ریڈیو سٹیشن کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا جبکہ دیگر تین سٹیشنوں کی نشریات فنڈز کی کمی کی وجہ سے بند کر دی گئی تھیں۔

خیبر ایجنسی سے سینیئر صحافی ابراھیم شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر یہ ایف ایم ریڈیو سٹیشنز قائم کرنے کا ایک مقصد شدت پسند تنظیموں کے اثر کو زائل کرنا تھا۔

سوات کے علاوہ خیبر ایجنسی میں شدت پسند تنظیموں نے اپنے اپنے ایف ایم ریڈیو سیشن قائم کر رکھے تھے جن سے شدت پسند تنظیموں کے سربراہوں کی تقریریں نشر کی جاتی تھیں۔

بنیادی طور پر خیبر ایجنسی میں دو مختلف شدت پسند تنظیموں نے اپنے اپنے موقف کے پرچار کے لیے ریڈیو سٹیشن قائم کیے تھے۔ ان تنظیموں نے آپس کی کشیدگی کے باعث بعد میں انہی ریڈیو سٹیشنوں پر ایک دوسرے کے خلاف تقریریں شروع کر دی تھیں جس سے مذہبی منافرت پھیل رہی تھی۔

قبائلی علاقوں میں ریڈیو کو ہی ابلاغ کا موثر زریعہ سمجھا جاتا ہے اس لیے اب مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن جاری ہے جس میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں لیکن عوامی سطح پر اس ریڈیو کو قائم کرنے کا ایک مقصد شدت پسند تنظیموں کے اثر کو زائل کرکے حکومت کی رٹ قائم کرنا ہے ۔

اسی بارے میں