ریڈ زون میں اجتماع کو روکنے کےلیے آرڈیننس کے اجرا کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہائی سکیورٹی زون میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کسی بھی فرد یا جماعت کو ناکے لگا کر لوگوں اور گاڑیوں کو چیک کرنے کی اجازت نہیں ہو گی

وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے تیس نومبر کے احتجاج کی کال کے پیش نظر شہر میں کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کے لیے آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں اس آرڈیننس کا مسودہ وزارت داخلہ اور وزارت قانون کو بھجوا دیا گیا ہے جہاں سے اس کی منظوری کے بعد صدر مملکت کو بھجوایا جائے گا۔

وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کی طرف سے مذکورہ وزارتوں کو بھیجے گئے آرڈیننس کے اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ ریڈ زون کو ہائی سیکورٹی زرون قرار دیا گیا ہے جہاں پر پانچ افراد کو اکھٹا ہونے کی اجازت نہیں ہے اور اس زون میں داخلے کا اختیار وہاں پر تعینات قانون نافذ کرنے والے ادروں کے اہلکاروں کو ہوگا۔

ہائی سکیورٹی زون میں شاہراہ دستور میں واقع اہم عمارتیں شامل ہیں جن میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، وزیر اعظم سیکریٹریٹ اور وزیر اعظم ہاؤس کے ساتھ ساتھ ڈپلیومیٹک انکلیو، سپریم کورٹ، پی ٹی وی، کوہسار کمپلکس میں واقع آئی ایس آئی کے اہلکاروں کی رہائش گاہوں، ججز کالونی کے علاوہ بلوچستان ہاؤس، پنجاب ہاؤس، سندھ ہاؤس اور خیبر پختون خوا ہاؤس شامل ہیں۔

اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ اس زون میں واقع سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے علاوہ غیر متعلقہ افراد کو داخلے کی اجازت پولیس کا گریڈ 17 کا افسر ہی دے گا اور بغیر اجازت داخل ہونے والے شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ پولیس افسران کی اجازت کے بغیر اس علاقے میں داخل ہونے والے شخص کو چھ ماہ قید اور دس ہزار روپے جُرمانے تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس مسودے اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو بھی ہائی سکیورٹی زون میں کسی بھی قسم کا مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور کوئی بھی شخص اسلحہ تو دور کی بات ڈنڈا لے کر بھی ہائی سکیورٹی زون میں داخل نہیں ہو سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس افسران کی اجازت کے بغیرریڈ زون میں داخل ہونے والے شخص کو چھ ماہ قید اور دس ہزار روپے جُرمانے تک کی سزا ہو سکے گی

خلاف ورزی کا مرتکب پائے جانے والے شخص کو تین سال تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ کوئی بھی شخص اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کرے گا۔

اس مسودے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ہائی سکیورٹی زون میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کسی بھی فرد یا جماعت کو ناکے لگا کر لوگوں اور گاڑیوں کو چیک کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس مسودے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس صرف اسلام آباد کی حدود میں ہی نافذ العمل ہو گا اور اس پر عمل درآمد کے لیے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئی بھی شخص ہائی سکیورٹی زون میں ڈنڈا بھی لے کر داخل نہیں ہو سکے گا

یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس کے آئی جی اور ایس ایس پی رینک کے افسران نے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو 30 اگست اور یکم ستمبر کو وزیر اعظم ہاؤس کی طرف مارچ کرنے سے روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے سے مغدرت کر لی تھی جبکہ اس دوران وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کے ارکان کے علاوہ اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام کے خلاف تین افراد کی ہلاکت کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کو پانچویں صوبے کی حثیت حاصل ہوتی ہے اور وفاقی دارالحکومت کے چیف کمشنر کے پاس وہی اختیارات ہوتے ہیں جو صوبے میں کسی گورنر کے پاس ہوتے ہیں۔

اُدھر اسلام آباد کی انتظامیہ نے 30 نومبر کے لیے پنجاب پولیس سے چار ہزار جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے پولیس کے ایک ہزار اور ایف سی کے تین ہزار اہلکاروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو خط لکھ دیا ہے۔

اسی بارے میں