نوشہرہ سے چار بوری بند اور باڑہ سے دو لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’چاروں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال نوشہرہ منتقل کر دیاگیا ہے‘

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ سے چھ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

نوشہرہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ سڑک کے کنارے سے چار بوری بند لاشیں ملی ہیں جنھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

نوشہرہ کے ضلعی پولیس سربراہ رب نواز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح نوشہرہ کے علاقے رسالپور میں براہ بانڈئی کے مقام پر سڑک کے کنارے سے بوری میں بند چار لاشیں ملی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مرنے والے افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ پولیس افسر کے مطابق دو لاشوں کی شناخت ان کی جیبوں میں پڑے ہوئے شناختی کارڈ سے کر لی گئی ہے۔ ایک کا تعلق مردان جبکہ دوسرے کا صوابی سے بتایا جاتا ہے، تاہم دیگر دو افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

انھوں نے کہا کہ چاروں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کےلیے ڈسٹرکٹ ہسپتال نوشہرہ منتقل کر دیاگیا ہے۔ تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرنے والے افراد کون ہیں اور ان کی ہلاکت کی وجوہات کیا ہیں۔

نوشہرہ کے سینیئر صحافی سہیل کاکا خیل کا کہنا ہے کہ نوشہرہ میں اس سے پہلے بھی بوریوں میں بند لاشیں ملنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم حالیہ واقعہ کافی عرصہ کے بعد پیش آیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اس قسم کے واقعات میں عام طور پر عسکری تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی لاشیں ملتی رہی ہیں۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل پشاور میں بھی بوری بند لاشیں ملنے کے کئی واقعات پیش آئے تھے۔ ایک وقت یہ واقعات اتنے زیادہ ہوگئے تھے کہ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس دوست محمد خان نے اس سلسلے میں از خود نوٹس بھی لیا تھا جس کے بعد بوریوں میں بند لاشوں کے واقعات کم ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق پشاور میں بوری میں بند بیشتر لاشیں عسکریت پسندوں کی تھیں۔

دریں اثنا قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں بھی دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے وہ عسکریت پسند ہیں۔

پولیٹیکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کی صبح باڑہ سب ڈویژن کے علاقے سپاہ میں سڑک کے کنارے سے دو نامعلوم افراد کی لاشیں ملیں جنھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ مرنے والے افراد عسکریت پسند ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ افراد آپریشن کے دوران مارے گئے ہیں یا ہلاکت کی وجہ کوئی اور ہے۔

خیبرایجنسی میں گذشتہ کئی ہفتوں سے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن خیبر ون جاری ہے جس میں اب تک درجنوں عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں