’شدت پسند تنظیمیں پاکستان ہو یا امریکہ سب کے لیے خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکہ نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں جس میں پاکستانی طالبان اور حقانی نیٹ ورک شامل ہیں نہ صرف پاکستان اور پورے خطے کے لیے بلکہ امریکہ کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان جیف راتھکی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ ان شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں۔

امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم یہی پیغام پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو بھی دیں گے۔

جیف راتھکی کے مطابق ہمیں پاکستان کے اعلیٰ اہل کاروں نے بتایا ہے کہ ان کی حکومت کی پالیسی ہے کہ وہ تمام شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

’انھیں کیوں نشانہ بنائیں جو ہمارے لیے خطرہ نہیں؟‘

ترجمان کے مطابق جہاں تک پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز کا بی بی سی کو دیے گئے بیان کی بات ہے تو ہم پاکستانی حکومت کی اس وضاحت کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور شمالی وزیرستان میں تمام دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ دفتر خارجہ نے منگل کو پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے اور آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہو رہی ہے۔

پاکستان کے دفتِر خارجہ کے مطابق سرتاج عزیز نے پیر کو بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کو ان عسکریت پسندوں کو ہدف نہیں بنانا چاہیے جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سرتاج عزیر نے یہ بیان ماضی کے پس منظر کے حوالے سے دیا۔

ترجمان دفترِ خارجہ تسنیم اسلم نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ پاکستان نے آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کر رکھا ہے جس کے دوران دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ پاکستان ان شدت پسندوں کو کیوں نشانہ بنائے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں؟

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا ’جو امریکہ کے دشمن ہیں وہ خواہ مخواہ ہمارے دشمن کیسے ہو گئے؟‘

بری فوج کے سربراہ راحیل شریف کے امریکی دورے کے پس منظر میں دیےگئے انٹرویو میں قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔

سرتاج عزیز نے حقانی نیٹ ورک کے بارے میں کہا ’جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہ تمام لوگ جن کو ہم نے مل کر مسلح کیا تھا اور تربیت دی تھی، انھیں ہماری طرف دھکیل دیا گیا۔ ان میں سے کچھ ہمارے لیے خطرہ ہیں اور کچھ نہیں ہیں۔ تو ہم سب کو کیوں دشمن بنائیں؟‘

سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا ’پاکستانی سرزمین سے امریکہ کے خلاف حملے کرنے والے شدت پسند گروہوں کی کارروائیاں روکنے کے لیے پاکستان نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے اور ان کی صلاحیت اور انفرا سٹرکچر کو ختم کر دیا ہے۔‘

اسی بارے میں