پشاور: لاپتہ افراد کیس میں حکام کو نوٹس جاری

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption پشاور ہائی کورٹ میں ہر ہفتے میں تین دن لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے

پشاور ہائی کورٹ نے بدھ کو 31 مزید لاپتہ افراد کے مقدمات نامکمل دستاویزات کی وجہ سے ایڈیشنل رجسٹرار کو بھیج دیے ہیں جبکہ ایک مقدمے میں متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

حراستی مرکز میں ہلاک ہونے والے افراد کے انتقال کے سرٹیفیکیٹ جاری نہ کرنے پر گزشتہ روز حراستی مرکز لکی مروت کے انچارج کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کے گئے تھے۔

چیف جسٹس مظہر عالم میانخیل اور جسٹس غضنفر علی پر مشتمل بنچ نے آج لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران ایسے 31 مقدمات ایڈیشنل رجسٹرار کو بھیج دیے ہیں جن کی دستاویزات مکمل نہیں تھیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں ہفتے کے تین دن لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔

بدھ کو کرم ایجنسی کے ایک رہائشی فریداللہ خان کو رہا نہ کرنے پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری فاٹا، اور پولیٹکل ایجنٹ کرم ایجنسی کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ فریداللہ خان کی رہائی کی درخواست ان کی والدہ حمیرا بی بی نے دی تھی۔

فریداللہ خان کے بارے ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ فریداللہ اور ان کے ساتھ دو مزید افراد پولیٹکل انتظامیہ کرم ایجنسی کی تحویل میں تھے جن میں سے دو کو رہا کر دیا گیا تھا جبکہ فریداللہ کو رہا نہیں کیا گیا۔

اس بارے میں پولیٹکل انتظامیہ کےایک خط کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں تسلیم کیا گیا تھا کہ فریداللہ ان کی تحویل میں ہے اور اسے جلد رہا کر دیا جائے گا یہ خط نو جولائی سنہ 2013 کو لکھا گیا تھا۔

گزشتہ روز لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے حراستی مرکز لکی مروت کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیا تھا اور صوبائی حکومت سے کہا تھا کہ متعلقہ انچارج کی تنخواہ روک دی جائے ۔

عدالت نے یہ حکم اس وقت دیا جب عدلت کے کہنے کے باوجود متعلقہ انچارج نے پایو گل نامی شخص کے انتقال کا سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیا تھا۔ پایو گل نامی شخص لکی مروت کے حراستی مرکز میں ہلاک ہو گیا تھا۔ عدالت نے صوبائی حکومت سے بھی کہا ہے کہ متعلقہ انچارج کی تنخواہ بھی عدالت کے حکم تک روک دے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل وقار احمد نے عدالت کو بتایا تھا کہ حراستی مرکز کے انچارج نے نہ تو ہلاکت کی سرٹیفیکیٹ جاری کی ہے اور نہ ہی خود عدالت میں پیش ہونے کے لیے آیا ہے ۔

عدالت نے یہ حکم گل مت خان نامی شخص کی درخواست پر دیا تھا۔ کرم ایجنسی کے رہائشی گل مت خان کے بقول اس کے بیٹے کو سال دو ہزار گیارہ میں سکیورٹی اہلکار گاڑی اور دکان کے سامان سمیت اٹھا کر لے گئے تھے۔ اس کے بعد اس کے بیٹے کو لکی مروت کے حراستی مرکز بھیج دیا گیا تھا جہاں سے گزشتہ سال نومبر میں اس کی لاش حوالے کی گئی تھی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اس کے بیٹے کی گاڑی اور سامان کرم ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ کی تحویل میں ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ جب تک بیٹے کی ہلاکت کی سرٹیفیکیٹ نہیں لاتے تب تک گاڑی اور سامان اس کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

فوج کے زیر انتظام یہ حراستی مراکز ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن فار فاٹا اینڈ پاٹا کے تحت سال دو ہزار گیاہ میں قائم کیے گئے تھے۔ ان حراستی مراکز میں ان افراد کو لایا جاتاہے جن کے خلاف دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات ہو رہی ہوں۔

کچھ عرصے سے ان حراستی مراکز میں قید افراد کی لاشیں ورثا کے حوالے کی گئی ہیں جس پر پشاور ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کیے تھے کہ قانون کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا پوسٹ مارٹم ضروری ہے کچھ عرصے کے دوران ان حراستی مراکز سے بیس سے پچیس افراد کی لاشیں ورثا کے حوالے کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں