’میں نے توہین مذہب نہیں کی‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو سنہ 2010 میں توہینِ مذہب کے الزام میں سزائے موت دی گئی تھی۔

آسیہ بی بی نے اس سزا کے خلاف اپیل کی لیکن ان کی یہ اپیل اس سال 16 اکتوبر کو مسترد کر دی گئی۔

آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے 17 نومبر کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں عالمی برادری کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NYT
Image caption عاشق مسیح نیو یارک ٹائمز میں لکھے گئے کھلے خط پر انگوٹھا لگاتے ہوئے

’کل میں ملتان کی جیل میں اپنی بیوی آسیہ بی بی سے مل کر واپس آیا ہوں جہاں وہ دس ماہ قبل منتقل کی گئی ہے۔ 2010 میں جب آسیہ بی بی نے گاؤں کے کنویں سے پانی پیا میرا خاندان مسلسل خوف اور خطرے میں جی رہے ہیں۔ مجھے اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ چھپ کر رہنا پڑتا ہے اور میری کوشش ہوتی ہے کہ ہم آسیہ کے جتنے قریب رہ سکیں رہیں۔ اس (آسیہ) کو زندہ رہنے کے لیے ہماری ضرورت ہے، اور جب وہ بیمار ہوتی ہے تو ہم اس کے لیے ادویات اور اچھا کھانا لے کے کر جاتے ہیں۔

’چار سال بدترین حالات میں جیل میں رہنے کے بعد ہم امید کر رہے تھے کہ لاہور ہائی کورٹ میری بیوی کو رہا کردے گی۔ وہ توہین مذہب کی مرتکب نہیں ہوئی، ہرگز نہیں۔ جب سے ہائی کورٹ نے سزائے موت برقرار رکھی ہے ہمیں یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیوں ہمارا ملک، ہمارا پیارا پاکستان، ہمارے خلاف کیوں ہے۔ ہمارا خاندان اس ملک میں ہمیشہ سے امن میں رہا ہے اور کبھی بھی ہمیں تنگ نہیں کیا گیا۔ ہم عیسائی ہیں لیکن ہم اسلام کا احترام کرتے ہیں۔ ہمارے ہمسائے مسلمان ہیں اور ہم ہمیشہ سے ان کے ہمراہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہے ہیں۔ لیکن گذشتہ چند سالوں سے چند افراد کے باعث پاکستان میں صورتحال تبدیل ہوئی ہے اور ہم خوفزدہ ہیں۔ آج ہمارے بہت سے مسلمان دوست یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان کا عدالتی نظام کیوں ہمارے خاندان کے لیے اتنی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

ہم پوری کوششیں ہیں ہیں کہ چار دسمبر سے قبل بہترین کیس سپریم کورٹ میں پیش کریں۔ لیکن ہم اس بات پر قائل ہیں کہ آسیہ بی بی کو پھانسی کے پھندے سے صرف ایک صورت میں بچایا جا سکتا ہے اگر صدرِ مملکت ممنون حسین معافی دے دیں۔ کسی کی موت ایک گلاس پانی پینے پر نہیں ہونی چاہیے۔

میرے پانچ بچے اور میں اب تک صرف اس لیے زندہ ہیں کیونکہ چند ایمان والے روزانہ اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر ہمیں پناہ دیتے ہیں۔ ہم آسیہ بی بی کا شوہر اور خاندان ہیں اور بہت سے لوگ ہمیں مردہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں شکریہ ادا کرتا ہوں ہماری دوست اینا ایزابیل جو ہماری بہن بن گئیں اور چار سالوں سے ہماری مدد کر رہی ہیں۔ ہم اکثر بات کرتے ہیں کہ پیرس اور دنیا بھر میں آسیہ کی زندگی بچانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔ یہ جاننا ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ دور دراز ملکوں میں لوگ آسیہ کی حمایت کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں تقویت ملتی ہے۔ ہر بار جب میں آسیہ سے ملنے جاتا ہوں تو میں اس کو خبر بتاتا ہوں۔ کئی بار ان خبروں سے اس کا بھی حوصلہ بلند ہوتا ہے۔

آسیہ سے ملنے کے لیے دس گھنٹے کے سفر پر روانہ ہونے سے قبل مجھے خبر ملی کہ پیرس نے پیش کش کی ہے کہ آسیہ بی بی اور اس کے خاندان کو پیرس پناہ دینے کے لیے تیار ہے اگر اس کو رہا کردیا جائے۔ یہ بہت اعزاز کی بات ہے اور ہم شکر گزار ہیں۔ میں تہہِ دل سے پیرس کی میئر(این ہڈلگو) کے ممنون ہیں اور ان کے اس قدم پر ہم شکر گزار ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن ہم آپ سے ملیں گے، زندہ مردہ نہیں۔

میں جب اس بار آسیہ سے ملا تو اس نے مجھے یہ پیغام آپ کو دینے کے لیے کہا: میری جیل کی کوٹھڑی میں کوئی کھڑکی نہیں ہے اور میرے دن اور شام ایک جیسے ہی ہیں لیکن اگر میں آج بھی زندہ ہوں تو یہ ان سب کی وجہ سے ہے جو میری مدد کر رہے ہیں۔ جب میرے شوہر نے مجھے وہ تصاویر دکھائیں جن میں وہ لوگ جن کو میں نہیں جانتی میرے لیے پانی کا گلاس پی رہے ہیں تو میں اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکی۔ عاشق نے مجھے بتایا کہ پیرس ہمیں پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔ میں تہہِ دل سے میڈم میئر کی شکر گزار ہوں اور پیرس اور دیگر ممالک میں لوگوں کی بھی شکر گزار ہوں۔ آپ لوگ اس کوٹھڑی میں میری امید کی آخری کرن ہیں، پلیز میرا ساتھ نہ چھوڑیے گا۔ میں نے توہین مذہب نہیں کیا۔‘

عاشق مسیح

پاکستان، نومبر 17 2014

اسی بارے میں