کراچی کی جنگ میں روزانہ ایک پولیس والا مارا جاتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں شدت پسند اکثر پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کرتے ہیں

پاکستان میں پولیس نہ صرف افغانستان سے متصل شمالی علاقوں میں، بلکہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کراچی میں بھی طالبان کے خلاف جنگ میں بھی پیش پیش ہے۔

پانچ ماہ پہلے ہی دس مسلح شدت پسندوں نے ہوائی جہاز کو اغوا کرنے کی نیت سے کراچی کے مرکزی ہوائی اڈے پر حملہ کیا۔ اس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں سے تقریباً رات بھر جاری رہنے والی جھڑپ میں زیادہ تر شدت پسند مارے گئے جبکہ دیگر نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس واقعے میں کم از کم 28 افراد مارے گئے۔

کراچی پولیس شہر کے مضافاتی علاقوں سے شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کی کوششیں میں طالبان کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے اور خطرے سے بھرپور اس کام میں شہر کی پولیس کے 15 ہزار اہلکاروں میں سے اوسطاً روزانہ ایک اہلکار مارا جاتا ہے۔

کراچی پولیس کے جرائم کی تحقیقات کرنے والے شعبے کے سینیئر افسر اعجاز کے مطابق: ’یہ کوئی پارسا نہیں ہیں، یہ جرائم پیشہ افراد ہیں۔ شدت پسند شہر میں منشیات کی فروخت سے مالی وسائل حاصل کرتے ہیں اور اپنی جنگ کے لیے پیسے حاصل کرنے لیے بھتہ خوری اور اغوا برائے تعاون کی وارداتیں کرتے ہیں۔ آپ کسی بھی جرم کے بارے میں سوچیں، اس میں طالبان ضرور شامل ہوں گے۔‘

’آپ ان کو جوئے کے کاروبار میں دیکھ سکتے ہیں، یہ شراب فروخت کرتے ہیں اور اکثر جسم فروشی کی خدمات بھی فراہم کرتے ہیں۔‘

اعجاز اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑے لگتے ہیں۔ اعجاز کا دفتر سگریٹ کے دھویں سے بھرا ہوا تھا۔ بظاہر ان کے ایک ہاتھ میں ہر وقت موبائل اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ ہوتا ہے۔

’شمالی علاقوں میں ان کے خلاف جنگ کرنا آسان ہے کیونکہ وہاں یہ واضح ہدف ہیں، لیکن کراچی جیسے شہر میں یہ بہت مشکل ہے کیونکہ یہاں 70 سے زائد سپلنٹر گروپ موجود ہیں اور آپ نہیں جانتے کہ کون آپ کا دشمن ہے۔ ہم اس وقت حقیقی حالتِ جنگ میں ہیں۔‘

تقریباً ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران ملک کے معاشی مرکز میں سیاسی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات رونما ہو رہے ہیں لیکن تمام جماعتوں کا مشترکہ دشمن ایک ہے اور وہ طالبان ہیں جو یہاں اپنے نسلی تنوع سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اعجاز کے مطابق: ’یہ ان کچی آبادیوں میں چھپتے ہیں جہاں اگر آپ پٹھان، پنجابی یا قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں تو کسی کا بھی آپ پر دھیان نہیں جائے گا۔

’آپ ایشیا کے کسی بھی علاقے سے یہاں آ جائیں اور کوئی بھی آپ کو دوسری بار نہیں دیکھے گا اور آپ یہاں پر ان کا مکمل طور پر سراغ نہیں لگایا جا سکتا۔‘

اعجاز اور مسلح 25 افسران بعض علاقوں میں رات کے وقت معمول کے مطابق چھاپے مارتے ہیں جب کہ یہ علاقے دوسرے پولیس یونٹوں کے لیے خاص کر شام کے بعد ممنوع علاقے ہیں۔

میں نے ان سے کہا کہ کیا ان چھاپوں کے دوران ان کے ساتھ جا سکتا ہوں؟ تو جواب ملا کہ ابھی صبر کریں، اس کے بعد اچانک ہی رات کے کھانے کے بعد میرے موبائل پر پیغام آیا کہ ’رات کو چھاپہ ہے، میں آپ کو پونے 12 بجے لینے آؤں گا اور میرے پاس آپ کے لیے بلٹ پروف جیکٹ ہو گی۔‘

جب ہم روانہ ہوئے تو اعجاز نے وضاحت کی کہ ہم خودکش حملہ آوروں کو ہینڈل کرنے والے ایک مشتبہ شخص کے مکان پر چھاپہ مارنے جا رہے ہیں۔ پولیس کے خیال میں یہ شخص خودکش حملہ آوروں کو ہدف تک پہنچانے کا کام سرانجام دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ایک مشتبہ شدت پسند نے اعتراف کیا کہ وہ نوجوان لڑکوں کو خود کش بمبار بناتا ہے‘

جلد ہی کراچی کی روشنی پیچھے رہ گئیں اور ہم ان عمارتوں کے پاس سے گزرنے لگے جو بظاہر خالی تھیں اور گاڑیوں کی روشنیوں میں سے اڑتی ہوئی دھول دیکھی جا سکتی تھی۔

اعجاز نے بتایا کہ ان کی فورس رات ایک بجے سے چار بجے تک مضافاتی علاقوں میں کئی کارروائیاں کرتی ہے۔ ان میں سے بعض مقامی افراد طالبان کو تحفظ کے لیے معاوضہ فراہم کرتے ہیں اور باہر سے آنے والے افراد یہاں آسانی سے گھوم نہیں سکتے۔

اعجاز نے بتایا کہ یہاں پناہ گاہیں اور ان افراد کے ہمدرد موجود ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ہتھیار بھی ہوں اس لیے احتیاط ضروری ہے۔ اس کے بعد پانچ گاڑیوں پر مشتمل ہمارا قافلہ مرکزی سڑک سے اتر کر ایک کچے راستے پر گامزن ہو گیا۔

اعجاز نے مزید بتایا کہ ’جب ہم ہدف پر پہنچ جائیں گے تو کچھ افسران سیڑھیوں کی مدد سے دو منزلہ مکان کی دیوار پھلانگیں گے جبکہ دوسرے اس جگہ کی تلاشی لیں گے۔ اسی دوران ڈرائیور گاڑیوں کو موڑ لیں گے کیونکہ کسی کو گرفتار کرنے کے بعد ہم چند سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر جتنی جلد ممکن ہو سکے، علاقے سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

آخر کار گاڑیاں ایک جگہ پر رک گئیں اور اعجاز نے چہرے پر نقاب پہن لیا کیونکہ طالبان سے منسلک گروپ اکثر پولیس کو ہدف بناتے ہیں۔

چند افسران نے مکان کے احاطے میں ٹارچ لائٹس کی مدد سے دیکھنا شروع کیا کہ کوئی جاگ تو نہیں رہا۔ ایک مسلح اہلکار نے دیوار پر چڑھنا شروع کر دیا جبکہ دیگر نے دروازے کے قریب پوزیشن لے لی۔

چند لمحوں کے بعد جیکٹ میں ملبوس ایک شخص کو مکان سے باہر لایا گیا۔ یہ شخص بظاہر ابھی ابھی نیند سے جاگا تھا۔ پولیس نے اس سے والد کا نام پوچھا اور پھر اسے گاڑی میں ڈال کر واپس سٹیشن کی جانب روانہ ہو گئے۔

سخت حفاظتی پہرے والی ایک عمارت مشتبہ طالبان سے تفتیش کے لیے مختص ہے۔ اعجاز نے تحقیقات کے دوران سختی برتنے کا بتایا جس وہ ’بازو مروڑنا‘ کہتے ہیں۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات واٹر بورڈنگ کا طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ میں نے ان کے ہاتھ میں برقی جھٹکے دینے والی گن دیکھی لیکن اس کو استعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

’آپ کسی مشتبہ شخص کو پھولوں کا گلدستہ پیش کر کے سچ بیان کرنے کا نہیں کہہ سکتے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں سچ بتانے پر انھیں چاکلیٹ دوں گا کیونکہ یہ بچے نہیں ہیں بلکہ سخت جان جرائم پیشہ افراد ہیں اور ان سے سلوک بھی ایسا ہی برتنا چاہیے۔

تاہم حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ایچ آر سی پی کراچی پولیس پر تشدد کرنے اور ماورائے عدالت قتل کرنے کے الزامات عائد کرتا ہے۔

مجھے اس شخص سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جسے وہ پکڑ کر لائے تھے۔ لیکن بعد میں اعجاز نے مجھے ایک اور مشتبہ طالب سے بات کرنے کی اجازت دے دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کراچی میں پولیس کے سینیئر افسران کو بھی بم دھماکوں میں نشانہ بنایا گیا

اس شخص کی گردن سے پسینہ بہہ رہا تھا لیکن یہ ذہنی دباؤ میں نہیں لگ رہا تھا۔ حقیقت میں اسی نے مجھے کہا کہ وہ بات کرنا چاہتا ہے۔ اس کو ہتھکڑی لگی تھی اور چہرے پر نقاب تھا تاکہ شناخت ظاہر ہونے پر میں اور دیگر پولیس اہلکار کسی ممکنہ انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بن سکیں۔

یہ جاننا تو ناممکن تھا کہ وہ کتنی ایمانداری سے میرے سوالات کا جواب دے رہا تھا، خاص کر جب تفتیش کے لیے مختص ایک بغیر کھڑکی کے کمرے میں اعجاز اس کے پاس کھڑا ہوا تھا۔

تاہم لگا کہ یہ مجھے اپنے کیے کے بارے میں بتانا چاہتا ہے: ’میں لڑکوں کو خودکش کارروائیوں کے لیے تیار کرتا تھا۔ ہم 13 سال سے 17 سال کی عمر تک کے نوجوان حاصل کرتے اور میں پرتشدد جہاد کا جذبہ پیدا کرتے اور انھیں کہتے کہ خود کو مذہب کے لیے قربان کرنا چاہیے۔

’میں نے شہر میں بم نصب کیے، میں نے کاروں، رکشوں، سیمنٹ کے ایک بلاک میں بم نصب کیے۔ میں نے ان حملوں میں 20 سے 25 لوگ ہلاک کیے۔ جب میں لوگوں کے مرنے کی خبریں دیکھتا تھا میں مجھے خوشی محسوس ہوتی تھی کیونکہ یہ لوگ منافق ہیں۔ میں بندوقیں بھی استعمال کرتا تھا۔ میں نے نائن ایم ایم پستول سے چار سے پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی مارا ہے۔‘

یہ قیدی ان حملوں کے مقاصد کے بارے میں بتاتے ہوئے خوفناک حد تک واضح تھا: ’یہ لوگ امریکہ کے اتحادی ہیں اور تمام منافق ہیں، پولیس، فوج، یہ سب امریکہ کے اتحادی ہیں۔‘

جب میں نے وضاحت کی کہ قتل، بھتہ خوری، منشیات فروشی غیر اسلامی فعل ہیں تو اس نے جواب دیا: ’ہمیں بندوقیں اور گولیاں حاصل کرنے کے لیے رقم چاہیے ہوتی ہے، آپ کے خیال میں کیا یہ سب مفت میں ملتا ہے؟ ہمارے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ چیزیں ٹھیک ہیں کیونکہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور ہم ایک مقدس جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس پر قتل اور ریاست کے خلاف سازش کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں لیکن یہ پیشن گوئی کرنا مشکل ہے کہ اس کا کیس کب عدالت میں شروع ہو گا، تاہم یہ جلدی شروع نہیں ہو سکتا کیونکہ ملک میں عدالتی نظام بہت سست ہے۔

گذشتہ سال ستمبر سے رواں سال اگست کے اختتام تک دہشت گردی کے کسی ایک بھی کیس پر فیصلہ نہیں سنایا جا سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پانچ ماہ پہلے ہی شدت پسندوں نے ملک کے سب سے مصروف ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا

اعجاز کے مطابق اس وجہ سے میرے اور میرے ساتھوں کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔ گواہوں کو اپنی جان کا خطرہ ہوتا ہے۔ عدالت میں طالبان کے خلاف بیان دینے میں خطرہ ہے اور زیادہ تر لوگ یہ خطرہ مول لینا نہیں چاہتے۔

’ہمارے پاس فون کالز کی نگرانی کرنے، فورینسک شواہد اکٹھے کرنے جیسے شعبوں میں وسائل کی بہت حد تک کمی ہے۔ عدالتی کارروائی میں دس سال تک لگ جاتے ہیں۔‘

تاہم اعجاز پراعتماد ہیں: ’ہم ان دہشت گردوں کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، یہ ہماری اخلاقی فتح ہے اور ایک دن ہم جسمانی طور پر بھی فتح حاصل کر لیں گے۔‘

اسی بارے میں