لاپتہ افراد کی بازیابی، عدالت کوشاں مگر حکام خاموش

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption پشاور ہائی کورٹ میں ہفتے کے تین روز لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے

پشاور ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کے دوران تمام حراستی مراکز کے انچارج سے کہا ہے کہ وہ زیر حراست تمام افراد کی مکمل تفصیلات عدالت کو پیش کریں جبکہ ادھر فاٹا ٹریبیونل کے سامنے شکیل آفریدی کےمقدمے میں متعلقہ حکام ایک بار پھر ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے۔

چیف جسٹس مظہر عالم میانخیل اور جسٹس غضنفر علی پر مشتمل بینچ نے جمعرات کو31 لاپتہ افراد کے مقدمات ایڈیشنل رجسٹرار کو بھیج دیے ہیں۔

لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی شخص پر کوئی مقدمہ نہیں ہے یا وہ کسی جرم میں ملوث نہیں ہے تو اسے رہا کیوں نہیں کر دیا جاتا۔

عدالت نے نو لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کے دوران حراستی مراکز کے انچارج سے کہا ہے کہ وہ زیر حراست تمام افراد کا ریکارڈ یعنی ان افراد کی مکمل تفصیلات عدالت کو فراہم کریں۔ اس موقع پر کوہاٹ کے حراستی مراکز نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

اس رپورٹ میں زیر حراست افراد کی تمام تفصیلات درج ہوتی ہیں مثال کے طور پر کب گرفتاری ہوئی، کیا الزامات عائد ہیں، کیا زیر حراست افراد کو تمام بنیادی سہولیات دستیاب ہیں اور کیا ان افراد کے خلاف حراستی مرکز میں تحقیقات ہوئیں ہیں یا نہیں اور کیا ان افراد پر جرم ثابت ہوا ہے یا یہ بے گناہ ہیں۔

یہ حراستی مراکز سال 2011 میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن فار فاٹا اینڈ پاٹا کے نفاذ کے بعد قائم کیے گئے تھے۔

یہ مراکز سوات ، کوہاٹ اور لکی مروت میں قائم ہیں جہاں بیشتر ایسے افراد کو رکھا گیا ہے جن کے خلاف دہشت گردی کے حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں۔

ایک لاپتہ شخص کے مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پولیس تھانہ پڑانگ چارسدہ کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کیا ہے۔

لاپتہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے ایک سینیئر وکیل عارف جان ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عدالت کی جانب سے لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانے کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ حراستی مراکز اور اور ان مراکز کے حکام تمام تفصیلات فراہم نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ان افراد کی بازیابی یا انھیں منظر عام پر لانے کے لیے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔‘

پشاور ہائی کورٹ میں ہفتے کے تین روز لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔

20 نومبر کو42 افراد کے مقدمات کی سماعت ہونا تھی جس میں سے 31 افراد کے مقدمات ایڈشنل رجسٹرار کو سماعت کے لیے بھیجے ہیں۔ یہ مقدمات عام طور پر دستاویز نا مکمل ہونے کی وجہ سے ایڈیشنل رجسٹرار کو بھیج دیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب جمعرات کو ہی فاٹا ٹریبیونل میں شکیل آفریدی کے مقدمے کی سماعت تھی لیکن ایک مرتبہ پھر متعلقہ حکام اس بارے میں ریکارڈ جمع نہیں کرا سکے۔

ٹریبیونل نے آئندہ سماعت 18 دسمبر کو ہو گئی۔ امریکہ کے لیے مبینہ طور جاسوسی کرنے والے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی سماعت فاٹا ٹریبیونل میں ہوئی لیکن کمشنر اور پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کرنے کی وجہ سے سماعت ملتوی کر دی گئی۔

شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ آج فریقین نے فاٹا ٹریبیونل میں کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین میں کمشنر پشاور ڈویژن ، پولیٹکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پویٹکل ایجنٹ شامل تھے۔ لیکن وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ نظر ثانی کی اپیل کی یہ سماعت چند ماہ سے مسلسل ریکارڈ پیش نے کرنے کی وجہ سے ملتوی کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں