بھارتی ماہی گیر نریندر مودی کی مدد کے طالب

Image caption پاکستان اور بھارت میں تعلقات معمول پر آنے کے بعد جذبہ خیر سگالی کے طور پر ان ماہی گیروں کو رہا کیا جاتا ہے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کیا مصروفیات ہوں گی یہ پاکستان میں شاید ہی کسی کو معلوم ہو لیکن نئی دلی سے کئی سو کلومیٹر دور کراچی میں ایک پولیس لاک اپ میں قید 61 ماہی گیر ان کی مدد کے طلب گار ہیں۔

بھارتی گجرات سے تعلق رکھنے والے 61 ماہی گیروں کو 11 لانچوں سمیت میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے جمعے کوگرفتار کیا گیا۔

ایس ایچ او ڈاکس ساجد حسین منگی کا کہنا ہے کہ ان ماہی گیروں پر فشریز اور فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انھیں سنیچر کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

’ان ماہی گیروں کو تفتیش کے مرحلے سے گذرنا پڑتا ہے کیونکہ کبھی کبھار ان میں کچھ حقیقی ماہی گیر ہوتے ہیں اور کچھ پاکستان میں داخل ہونے والے اس لیے نیوی اور پولیس اپنے طور ان سے پوچھ گچھ کرتی ہے۔

35 سالہ پوش، تین بھائیوں سمیت گرفتار ہوئے ہیں ان کے گھر بوڑھی ماں ہے، انھوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے مدد کی اپیل کی۔

’وزیراعظم صاحب ہم مچھلی کا شکار کرتے ہیں، ہم سرحد پر تھے کہ اس دوران ایک کلومیٹر پاکستان کی سرحد کے اندر آ گئے، پاکستان نیوی نے ہمیں گرفتار کر لیا، میرے گھر اب کمانے والا کوئی نہیں ہے، مہربانی کر کے آپ پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کریں اور پاکستان بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرے۔‘

گرفتار ہونے والے کملیش سولنکی کہتے ہیں ’مچھلی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، ہم اس کے پیچھے بھٹکتے رہتے ہیں، ہم غریب لوگ ہیں اور مجبوری میں آتے ہیں لیکن فورسز کی کیا مجبوری ہے ہمیں سمجھ میں نہیں آتی، ہمارے پاس ہتھیار نہیں، ہم سب معصوم اور غریب لوگ ہیں۔‘

گرفتاری کے وقت جگا بھائی نامی ماہی گیرو کا کا بازو ٹوٹ گیا ہے۔

وہ بتاتے ہیں ’جیسے ہی میری ٹائم سکیورٹی والوں کا جہاز آیا تو بھگدڑ مچ گئی اور وہ اس دوران گرگئے جس کی وجہ سے ان کا بازو ٹوٹ گیا، پٹی تو باندھی ہے لیکن کہتے ہیں دوا جیل کے ہپستال سے لینا۔‘

ان قیدیوں کے کھانے پینے کا انتظام فلاحی اداروں کی جانب سے کیا گیا ہے جبکہ پانی پلانے کے لیے لاک اپ کے باہر دو نو عمر ماہی گیر بیٹھے ہیں۔

ان میں سے 14 سالہ اکشے پہلی بار کشتی پر سوار ہوئے تھے ان کی ذمہ داری ماہی گیروں کے لیے کھانا بنانا تھی جس کے بدلے ان کا دو ہزار رپے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا گیا تھا۔

اکشے اپنے چچا کے ساتھ گرفتار ہوئے ہیں، وہ کہتے ہیں ’انھیں پتہ نہیں چلا کہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوگئے، اب معلوم نہیں کہ کب رہا ہوں گے؟۔‘

نواں بندر کے رہائشی 17 سالہ ہریش دو خالہ زاد بھائیوں سمیت گرفتار کیے گئے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کی حدود سے دور کھڑے تھے جب انھوں نے پاکستان کی نیوی دیکھی اور فرار ہونے کی کوشش کی لیکن پاکستان فورس نے فائرنگ شروع کردی تھی اور وہ رک گئے۔

لاک اپ کے باہر ان ماہی گیروں کے بسترے اور بیگ موجود تھے جبکہ ان کا شکار اور لانچیں میری ٹائم سیکیورٹی کی تحویل میں ہیں۔

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ فی کشتی 40 سے 50 لاکھ بھارتی روپے مالیت کی ہے ماہی گیر رہا بھی ہو جائیں تو انھیں کشتیاں واپس نہیں دی جاتیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت میں تعلقات معمول پر آنے کے بعد جذبہ خیر سگالی کے طور پر ان ماہی گیروں کو رہا کیا جاتا ہے۔

ایل او سی پر فائرنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ان دنوں کشیدہ ہیں۔

اسی بارے میں