’سالانہ پانچ ہزار ہندو پاکستان چھوڑ رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صحافی فوزیہ شاہد نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق پاکستانی میڈیا کے منفی کردار کی شدید الفاظ میں مذمت کی

پاکستان میں حکمران جماعت کے اقلیتی رکنِ پارلیمان نے کہا کہ صوبہ سندھ میں ہندو اور عیسائی بچیوں کو زبردستی مسلمان بنانے کے باعث ہرسال پانچ ہزار ہندو پاکستان چھوڑ کردوسرے ممالک کو جا رہے ہیں۔

سندھ سے قومی اسمبلی کے اقلیتی رکن ڈاکٹررمیش کمار نے جمعہ کو اسلام آباد میں جنوبی ایشیا میں صحافیوں کی تنظیم سیفما کے زیراہتمام ایک سمینار سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ایک صوبے کے اندر کسی ہندو بچی کو زبردستی مسلمان کیا جاتا ہے یا کسی چرچ یا مندر کو جلایا جاتا ہے تو عالمی سطع پر اس سے پورے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں ہندو بچیوں کو بندوق کے زور پر زبردستی مسلمان کرنے سے متعلق سپریم کورٹ نے جون میں 32 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فیصلہ دیا تھا لیکن وفاقی اورصوبائی حکومت کی جانب سے آج تک اس پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔

رمیش کمار نے بتایا کہ چار اکتوبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے ایک 14 سالہ بچی حسنان کو ایک لڑکے نےاغوا کیا تھا، بعد میں وہ لڑکا اسلحہ سمیت گرفتار بھی ہوا جس کےخلاف ایف آئی آر درج تھی لیکن اگلے دن وہ رہا ہوگیا۔ جب گذشتہ روزحسنان گھر واپس آئی توان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے اور ساتھ ہی اس سے ایک مدرسے کاسرٹفیکیٹ بھی دیاگیا تھا جس کے مطابق وہ بچی مسلمان ہوئی ہے لیکن بچی کا کہنا ہے کہ انھیں بندوق کے زور پرمذہب تبدیل کروانے پر مجبور کیا گیا۔ اس کے باوجود پولیس کی جانب سے تاحال ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی کا مزید کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے ہرسال سندھ اور بلوچستان سے تقربیاً پانچ ہزار ہندو افراد ملک چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔

سمینار سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کمیشن کی سرکردہ خاتون رہنما رومانہ بشیر نے کہا کہ پاکستان میں ہندو اورعیسائی ہونے کے ناطے شناخت اقلیتوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ یہاں ایک بڑا طبقہ اپنی شناخت کودرست قرار دے کرچھوٹے مذاہب کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

انھوں نے کوٹ رادھاکشن میں اینٹ کے بھٹے میں عیسائی جوڑے کو زندہ جلانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پہلے لوگوں کوعدالت سےباہرگولیاں مارنے کا سلسلہ شروع ہوا، بعد میں بستیوں کو آگ لگانے کا راستہ اختیار کیاگیا اور اب اینٹ کے بھٹے کو اوزار کے طور پر استعمال کرنے کا نیا رجحان سامنے آیا ہے۔

رومانہ بشیر نے توہین رسالت کے الزام میں بے گناہ افراد کو ملوث کرنے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ ایک ایسا قانون بنایا جائے کہ اگر الزام لگانے والےشخص کا الزام غلط ثابت ہوا تو پھراس کو بھی وہی سزا دی جائے جوتوہین رسالت کے مرتکب افراد کے لیے مختص ہے۔

سمینار سے خطا ب کرتے ہوئے ممتاز صحافی فوزیہ شاہد نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق پاکستانی میڈیا کے منفی کردار کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ آئین میں اقلیت کا لفظ ہی غلط ہے کیونکہ اس ملک میں رہنے والے تمام مذاہب، عقیدے اور رنگ ونسل کے لوگ پہلے انسان اور بعد میں پاکستانی ہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ہندو اورعیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والی بچیوں کو زبردستی مسلمان بنانے والوں کےخلاف حکومت فوری طور پر سخت اقدامات اٹھائے، اس کے علاوہ کوٹ رادھاکشن میں پیش آنے والے واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ ان مذاہب کے لوگوں میں پائی جانے والی احساس خوف میں کسی حد تک کمی ہو سکے۔

اسی بارے میں