’ملک کے مسائل کا حل جہاد اور قتال فی سبیل اللہ میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جماعت اسلامی کے رہنما منور حسن کے مطابق جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے لفظ کا استعمال متروک ہوتا جا رہا ہے

پاکستان میں جماعتِ اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات پر محض انتخابی سیاست اور جمہوری سیاست کے ذریعے قابو نہیں پایا جا سکتا بلکہ اس کے لیے جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

لاہور میں جماعت اسلامی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما منور حسن نے کہا کہ’ وہ ڈنکے کی چوٹ پر اور بلاخوف و تردید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس میں اگر جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے کچلر کو عام نہیں کیا گیا تو محض انتخابی سیاست اور جمہوری سیاست کے ذریعے اس وقت کے حالات پر قابو نہیں پایا جا سکتا ہے۔‘

’جماعتِ اسلامی اور طالبان کا ایک مؤقف‘

انھوں نے کہا کہ جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے لفظ کا استعمال متروک ہوتا جا رہا ہے اور اس کو دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا اور شدت پسندی قرار پایا ہے اور بڑے بڑے لوگ اس لفظ کے زیادہ استعمال سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔

منور حسن نے مزید کہا کہ جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کے نتیجے میں جب حالات ٹھیک ہو جائیں جس میں منکر اور معروف کی کشمکش کے اندر معروف کی فتح ہو جائے تو پھر جمہوری انتخابی سیاست کارگر ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے جماعتی اسلامی کے سابق امیر کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس وقت امن کی ضرورت ہے لیکن منور حسن نوجوانوں کو قتل و غارت گری پر اکسا رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کی رابط کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ’اس بیان سے جماعت اسلامی کا اصل مقصد اور خفیہ پروگرام ایک بار پھر عوام کے سامنے آگیا ہے اوراس سے یہ بات سمجھنا کوئی دشوار نہیں کہ پاکستان میں داعش(شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ) کی نمائندگی کون کر رہا ہے اور داعش کے قتل و غارت گری کے پیغام کو کون پھیلا رہا ہے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں منور حسن کے بیان پر حیرت اور افسوس ہے تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیان جماعت اسلامی کا موقف نہیں ہو سکتا بلکہ فرد واحد کا بیان ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما شرمیلا فاروقی نے بھی منور حسن کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ نہیں سمجھتی منور حسن کا بیان جماعت اسلامی کا موقف نہیں بلکہ اس طرح کے بیانات ماضی میں دیے جا چکے ہیں اور یہ ان کی ذہینت کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

گذشتہ سال منور حسن جب جماعت اسلامی کے امیر تھے تو اس وقت انھوں نے شدت پسند تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر انھیں شہید قرار دیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے منور حسن کے بیان کو ’غیر ذمہ دارنہ اور گمراہ کن‘ قرار دے کر اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

اس سے پہلے انھوں نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ جماعتِ اسلامی اور طالبان کا مؤقف ایک ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جاری امریکہ کی جنگ سے علٰیحدہ ہو جائے۔

اسی بارے میں