جنوبی وزیرستان میں خوف کے سائے میں پولیو مہم

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صرف جنوبی وزیرستان ہی نہیں بلکہ شمالی وزیرستان میں بھی ایک بڑے عرصے تک انسداد پولیو مہم شروع نہیں کی جا سکی

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں خوف اور کشیدگی کے ماحول میں کوئی ڈھائی سال بعد تین روزہ انسداد پولیو کی مہم جاری ہے جس میں پاکستانی فوج کے اہلکار ہیلتھ ورکروں اور رضا کاروں کو سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔

اس مہم کے دوران لگ بھگ 67 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیے جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران کوشش کی جا رہی ہے کہ دور دراز کے علاقوں میں بھی بچوں کو اس خطرناک بیماری سے بچاؤ کے قطرے دیے جا سکیں۔

فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان عدنان خان کا کہنا ہے یہ مہم جنوبی وزیرستان میں تقریباً ڈھائی سال کے بعد شروع کی گئی ہے اور اس میں کوشش یہی کی جا رہی ہے کہ اس علاقے میں جتنے بچے موجود ہیں ان سب کو یہ ویکسین دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے مطابق ہیلتھ ورکرز اور رضاکار گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے دے رہے ہیں۔

عدنان خان نے بتایا کہ اس مہم کے لیے مقامی قبائلی رہنماؤں کا تعاون حاصل ہے، جبکہ فوج کے اہلکار ان ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔

اس قبائلی علاقے میں مختلف وجوہات کی بنا پر انسداد پولیو مہم شروع نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس علاقے میں شدت پسندوں کی جانب سے انسداد پولیو مہم پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور رضاکاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں دے سکتے۔

ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اب پولیٹکل انتظامیہ اور سکیورٹی حکام کی کوششوں سے اس قبائلی علاقے میں انسداد پولیو کی مہم شروع کی گئی ہے۔

جنوبی وزیرستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان اور ان کے اتحادی شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن راہ نجات جون سنہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا۔ اس آپریشن سے حکام کے مطابق بیشتر علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں لیکن اب بھی بڑی تعداد میں محسود قبیلے کے لوگ در پہ در کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

صرف جنوبی وزیرستان ہی نہیں بلکہ شمالی وزیرستان میں بھی ایک بڑے عرصے تک انسداد پولیو مہم شروع نہیں کی جا سکی لیکن اب فوجی آپریشن ضرب عضب کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی ہے جنھیں اب پولیو سے بچاؤ کے قطرے دیے جا رہے ہیں جبکہ شمالی وزیرستان کے ان علاقوں میں بھی انسداد پولیو کی مہم شروع کی گئی ہے جہاں فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔

پاکستان سے اس سال ریکارڈ سب سے زیادہ بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن کی تعداد 260 بتائی گئی ہے ان میں سب سے زیادہ تعداد قبائلی علاقوں سے سامنے آئی ہے جن کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

اسی بارے میں