لال حویلی پھر سے متنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیخ رشید کے مطابق متروکہ بورڈ کی عمارت ان کے استعمال میں 1985 سے ہے جبکہ حکومت کا موقف ہے یہ قبضہ مشرف دور میں کیا گیا

پاکستان میں 30 نومبر کے قریب آنے کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے حامیوں کے خلاف بد عنوانی کے الزامات لگانے کی ایک مہم سی شروع ہو گئی ہے۔

گذشتہ روز نج کاری کمیشن کے سربراہ زبیر احمد نے ایک پریس کانفرنس میں جہانگیر ترین کے خلاف الزام لگایا تھا کہ انھوں نےگذشتہ حکومت کے دوران 24 کروڑ روپے کے قرضے معاف کرائے تھے اور بدھ کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے خلاف اپنے اداروں کی فائلیں کھنگال کر ایک کیس نکال لائے ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان نے 30 نومبر کو اسلام آباد میں ایک بڑا سیاسی اجتماع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ اس اجتماع کو نقصان پہنچایا جائے۔

صدیق الفاروق کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ متروکہ املاک بورڈ کی جانب سے انھیں ایک نوٹس موصول ہوا ہے، تاہم وہ تردید کرتے ہیں کہ راولپنڈی کی لال حویلی سے متصل مندر، جو اب ایک رہائشی مکان میں بدل چکا ہے، ان کے قبضے میں ہے۔

ادارے کے چیئرمین صدیق الفاروق نے بدھ کو پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی دس مرلے سے زائد رقبے پر مشتمل رہائش گاہ پر کئی برسوں سے قبضہ کر رکھا ہے۔

’چھ کمروں اور ایک ہال پر مشتمل رہائش گاہ پر شیخ رشید نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید احمد نے بوڑھ بازار میں واقع اس رہائش گاہ کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا اور نہ ہی وہ اس بارے میں ادارے کا کوئی نوٹس وصول کرتے ہیں۔

شیخ رشید احمد نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی اس عمارت پر قبضہ کیا کب؟ جب یہ سوال متروکہ وقف املاک بورڈ کے سربراہ صدیق الفاروق سے کیا گیا تو پہلے تو وہ یہ کہہ کر خاموش ہوگئے کہ ’مجھے نہیں معلوم کب سے شیخ رشید کے پاس ہے، جب وہ وزیر تھے تو ایک کمرے کو انھوں نے جبراً لال حویلی کا باورچی خانہ بنا لیا تھا۔ سنہ تو مجھے یاد نہیں، بنیادی بات یہ ہے کہ انھوں نے کسی کو الاٹ ہوئی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔‘

لیکن عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے متروکہ املاک کی زمین پر قبضہ نواز شریف کے دور حکومت میں تو نہیں کیا تھا؟

اس کے جواب میں صدیق الفاروق نے بیان بدل کر دعویٰ کیا کہ شیخ رشید کے پاس اس متروکہ جائیداد کا قبضہ پرویز مشرف کے دورِ حکومت سے ہے۔

یاد رہے کہ یہ وہی لال حویلی ہے جہاں میاں نواز شریف 90 کی دہائی میں متعدد جلسے کر چکے ہیں اور صدیق الفاروق بھی ان عوامی اجتماعات میں شریک رہے ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے متروکہ املاک بورڈ کی جانب سے نوٹس موصول ہونے کی تصدیق تو کی لیکن صدیق الفاروق کی طرح ان کے بیان میں بھی تضاد تھا۔

گفتگو کے آغاز میں ان کا جواب تھا کہ اس جائیداد کا قبضہ ان کے پاس نہیں لیکن پھر بتایا کہ 1985 سے یہ عمارت ان کے پاس ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ان کے ملازمین میں سے کوئی وہاں رہتا ہو تو انھیں نہیں معلوم، تاہم وہاں بہت سے غریب لوگ بھی رہائش پذیر ہیں۔

’وہاں کئی ریڑھی والے اور چھابے والے رہتے ہیں وہاں یقیناً ہمارے ملازمین بھی رہتے ہوں گے، اگر ہمارے نام کوئی کرایہ نکلا تو وہ ہم ضرور دیں گے۔‘

شیخ رشید نے شکوہ کیا کہ حکومت لال حویلی سے بھی خوش نہیں لیکن لال حویلی ان کی نہیں ان کے بھائی کی ہے۔

’ ہمارے پاس زمین نہیں اوپر والا ڈھائی مرلے کا چوبارہ ہے، ہمارے علاوہ 19 دیگر لوگ بھی لال حویلی میں رہتے ہیں۔‘

اگر شیخ رشید کےپاس عمارت کا قبضہ نہیں تو پھر متروکہ وقف املاک بورڈ نے انھیں کس ضمن میں نوٹس بھجوا دیا اور یہ بھی کہ انھوں نے اسے کس حیثیت میں وصول کیا؟

شیخ رشید احمد نے نوٹس کی تفصیلات کے لیے اپنے بھتیجے شیخ راشد کا نمبر دیا تاہم شیخ راشد کا بیان اپنے چچا سے قدرے محتلف تھا۔

انھوں نے تصدیق کی کہ لال حویلی سے متصل محکمہ اوقاف کی جائیداد جو دراصل ایک مندر ہے پچھلے 15 سے 20 سال سے عوامی مسلم لیگ کے زیراستعمال ہے۔

’نوٹس وکیل کو بھجوا دیا ہے، اس میں شیخ رشید کے نام یہی لکھا ہے کہ یہ محکمہ اوقاف کی جو پراپرٹی ہے اس کی کرایہ داری منسوخ کی جاتی ہے اور سات دن میں بے دخلی کا نوٹس ہے۔‘

’چھ کمرے ہیں ان میں شیخ صاحب کے ساتھ ڈیوٹی دینے والی پنجاب پولیس کا سکواڈ رہائش پذیر تھا۔ 2007 میں شیخ رشید احمد نے محکمہ اوقاف کوتحریری درخواست دی تھی کہ کرایہ داری میرے نام منتقل کی جائے، ہم نے دو سال کا کرایہ جمع کروایا اور اس کے بعد ہمیں کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا نہ کرایہ داری بھیجی۔ کرایہ داری انھی کے نام چل رہی تھی جو فوت ہو چکے ہیں۔ ہم نے انھیں کہا تھا کہ جب تک آپ شیخ رشید کے نام منتقل نہیں کرتے ہم کرایہ داری نہیں دے سکتے؟‘

شیخ راشد کے مطابق حکومت کی جانب سے موصول ہونے والے نوٹس میں شیخ رشید کا نام لکھا ہوا ہے تاہم محکمہ اوقاف کی فائل پر سابقہ کرایہ داروں کا نام لکھا ہوا ہے۔

’ہمیں نہیں بتایا گیا کہ ہمارے نام کتنے پیسے واجب لادا ہیں، ہم اپیل کریں گے کہ ہمارا قبضہ تھا۔ اگر یہ ہمارے نام اسے منتقل کرتے ہیں تو ہم کرایہ داری دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

اسی بارے میں