نواز شریف کی نااہلی کی درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ حال ہی میں نواز شریف کی نااہلی کی 17 برس پرانی درخواستیں خارج کر چکی ہے

پاکستان کے چیف جسٹس ناصر الملک نے وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کے لیے سات رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک خود اس سات رکنی بینچ کی سربراہی کریں گے اور یہ بینچ آئندہ ہفتے سے ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

اس سے پہلے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے چیف جسٹس کو ایک نوٹ بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ رکن پارلیمنٹ کی اہلیت کے لیے آئین میں دیے گئے آرٹیکل 62 اور 63 کی تشریح ضروری ہے ورنہ نہ صرف اس کا غلط استعمال ہوگا بلکہ مخالفین اسے ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے لیے عدالتوں کا رخ کریں گے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے متعلق درخواستیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسحاق خاکوانی اور پاکستان مسلم لیگ قاف کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے دائر کی تھیں۔

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دینے والی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی قیادت سے حکومت کے مذاکرات شروع کروانے کے لیے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو کہا تھا تاہم وزیر اعظم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں تقریر کے دوران اس کی نفی کی تھی اور کہا تھا کہ فوج نے نہ کبھی ایسا کردار مانگا ہے اور نہ ہی اُنھیں ایسا کرنے کو کہا گیا ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل عاصم باجوہ نے وزیر اعظم کے موقف کو مسترد کیا تھا۔

درخواست گزاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا ہے اور وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے اُنھیں نااہل قرار دیا جائے جبکہ اٹارنی جنرل کا موقف رہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی کارروائی کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی نااہلی سے متعلق درخواستیں غیر موثر ہونے پر مسترد کر چکی ہے۔

یہ درخواستیں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بابر اعوان اور مولوی اقبال حیدر نے سنہ 1999 میں دائر کی تھیں اور ان میں کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے مختلف بینکوں سے قرضہ لیا ہوا ہے جو انھوں نے ابھی تک ادا نہیں کیا اس لیے اُنھیں نااہل قرار دیا جائے۔

اسی بارے میں