’دھاندلی کےلیے55 لاکھ اضافی بیلٹ پیپر چھپوائے گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عمران خان تیس نومبر کو اسلام آباد میں حکومت مخالف جلسہ کرنے والے ہیں

پاکستان تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ گذشتہ برس ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں دھاندلی کے لیے 55 لاکھ اضافی بیلٹ پیپر چھپوا کر صوبہ پنجاب اور سندھ کے مخصوص حلقوں میں بھجوائےگئے تھے۔

جمعہ کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں جماعت کے مرکزی رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے دعویٰ کیا کہ اضافی بیلٹ پیپرز سرکاری پرنٹنگ پریس میں ڈیوٹی پر موجود سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی موجودگی میں چھاپے گئے اور اُن کی موجودگی میں ہی ان بیلٹ پیپرز کی ترسیل بھی ہوئی۔

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے اس الزام کو مسترد کریا ہے اور کہا ہے کہ پورے ملک میں صرف آٹھ لاکھ اضافی بیلٹ پیپرز چھاپےگئے تھے۔

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد آٹھ کروڑ 61 لاکھ تھی جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کو بھی شامل کر کے 17 کروڑ 30 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے تھے اور اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کے پاس اُن کمپنیوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے جنھیں اضافی بیلٹ پیپرز چھاپنے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے تحریک انصاف کی قیادت یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ اضافی بیلٹ پیپرز لاہور کے اردو بازار سے ایک نجی پرنٹنگ پریس سے چھپوائے گئے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اضافی بیلٹ پیپرز اور مبینہ دھاندلی سے متعلق جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اُس میں صوبہ خیبر پختونخوا کا ذکر نہیں ہے۔

عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سے متعلق ’انکشافات‘ کے لیے منعقد کی جانے والی پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی موجود تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں پانچ سرکاری پرنٹنگ پریس میں سے تین کا ریکارڈ حاصل کیا گیا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی سے متعلق اُن کی جماعت کو انصاف نہیں ملا اس لیے وہ اسلام آباد میں دھرنا دینے پر مجبور ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ جب تک دھاندلی کرنے والے عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا اُس وقت تک ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔

اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ ریٹرننگ افسران کے خلاف تحقیقات کروائی جائیں اور اُن کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

اس پریس کانفرنس میں صحافیوں سے زیادہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی تعداد موجود تھی۔

اسی بارے میں