سکھر: جمعیت علمائے اسلام کے رہنما ڈاکٹر خالد سومرو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption حملہ آوروں نے 11 راونڈ فائر کیے ہیں جن میں سے چار مولانا خالد محمود سومرو کو لگے جو جان لیوا ثابت ہوئے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ سندھ کے سیکریٹری جنرل خالد سومرو کو ہلاک کر دیا۔

سائیٹ تھانے کی حدود گلشن اقبال میں نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت خالد محمود سومرو پر حملہ کیا جب وہ مدرسے میں فجر کی نماز ادا کر رہے تھے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے، انھیں ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے۔

ایس ایس پی سکھر تنویر حسین تنیو کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد چار تھی ان میں سے تین مسجد میں داخل ہوئے ہیں جبکہ ایک باہر موجود تھا۔

حملہ آوروں نے 11 راونڈ فائر کیے ہیں جن میں سے چار مولانا خالد محمود سومرو کو لگے جو جان لیوا ثابت ہوئے ہیں۔

پولیس کو چشم دید گواہوں نے بتایا ہے کہ حملہ آور سفید رنگ کی ایک کار میں سوار تھے، ایک حملہ آور ڈرائیونگ سیٹ پر موجود رہا جبکہ چار اندر داخل ہوئے، جو آپس میں بلوچی زبان میں بات کر رہے تھے۔ حملہ آورں میں سے ایک نے خالد محمود کی نشاندھی کی جبکہ دوسرے نے فائر کیے۔ اس دوران مسجد میں موجود دیگر لوگوں کو خاموش رہنے کو کہا گیا۔

ایس ایس پی تنویر حسین کا کہنا ہے کہ حملہ آورں کے طریقۂ واردات اور نشانہ سے لگتا ہے کہ وہ تربیت یافتہ تھے، واقعے کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ اس سے پہلے ہونے والے حملوں سے کتنی مماثلت ہے۔

ان کے مطابق اس سے پہلے خالد محمود سومرو پر لاڑکانہ، جیکب آباد اور شکارپور میں حملے ہوچکے ہیں۔

خالد محمود سومرو جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ سندھ کے سیکریٹری جنرل اور سابق سینیٹر بھی تھے۔

انھوں نے جمعہ کوسکھر میں ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا جس میں آس پاس کے مدارس کے طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔

سکھر سائیٹ ایریا میں ان کی زیر نگرانی ایک مدرسے کی تعمیر جاری تھی جس میں انھوں نے رات کو قیام کیا تھا۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما کی ہلاکت کے خلاف سکھر، لاڑکانہ سمیت سندھ کے کئی شہروں میں کاروبار بند رہا جبکہ ان کی میت آبائی علاقے نوڈیرو پہنچا دی گئی ہے۔

خالد محمود سومرو نے ایم بی بی ایس کے علاوہ، اسلامک کلچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

انھوں نے لاڑکانہ اور ملتان کے مدارس کے علاوہ قاہرہ یونیورسٹی سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔

وہ اپنی جماعت کے سرگرم رہنما تھا، ان کی قیادت میں جمیعت علمائے اسلام کے زیرِ انتظام مدارس میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔

انھوں نے سندھ کے کچے سے لیکر تھر کے صحرا تک دیوبند مکتب فکر کو عام کیا۔

سندھ میں ارباب غلام رحیم کے دور حکومت میں ان کی مدد سے متحدہ مجلس عمل کی نشستیں کم ہونے کے باوجود وہ سینیٹر منتخب ہونے میں کامیاب رہے تھے۔

خالد محمود سومرو پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے مدمقابل امیدوار رہے۔

وہ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف اتحادوں کا بھی حصہ رہے۔

انھں نے سندھ میں ایک ایسے مولانا کے طور پر شناخت حاصل کی جس کے قوم پرستوں کے ساتھ قریبی مراسم تھے۔

انھوں نے کالاباغ ڈیم ، قومی مالیاتی ایوارڈ اور سندھ کی تقسیم کے نعرے پر وہ ہی موقف اختیار کیا جو قوم پرست جماعتوں کا تھا۔

لاڑکانہ کے میونسپل سٹڈیم میں مولانا خالد محمود کی نمازے جنازہ ادا کی گئی، جس میں جے یو آئی کے رہنما حافظ حسین احمد، مولانا فضل الرحمان کے بھائی عطاالرحمان، سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی، قومپرست رہنما ڈاکٹر قادر مگسی اور دیگر رہنماؤں کے علاوہ کارکنوں اور مدارس کا طالب علموں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔خالد محمود سومرو کی تدفین لاڑکانہ کی حقانی کالونی میں کی گئی۔

یاد رہے کہ جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سنیچر کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں