کراچی: لڑکیاں پولیٹیکل ایجنٹ کے حوالے، ملزمان کی ضمانت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منگل کو اس واقعے میں پولیس نے دو خواتین اور ایک مرد کو حراست میں لیا تھا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ایک عدالت نے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والی 26 بچیوں کو حبس بے جا میں رکھنے کے الزام میں گرفتار تین ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

اس کیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایس ایس پی عمران ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ لیاقت آباد سے بازیاب ہونے والی 26 بچیوں کو اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ محمد فیاض کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ مقامی عدالت نے تین ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا۔

ایس ایس پی عمران ریاض کے مطابق ملزمان کے خلاف بچیوں کو حبس بےجا میں رکھنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’تفتیش میں مزید دو ہفتے لگ جائیں گے کہ بچیوں کو والدین نے اپنی مرضی سے یہاں بھیجا تھا یا یہ لین دین کا تنازع ہے۔‘

جمعرات کو پولیس حکام نے بچیوں کو دارالبنات منتقل کر دیا تھا اور کہا تھا کہ باجوڑ ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے ان بچیوں کو واپس باجوڑ پہنچایا جائے گا جہاں انھیں صرف ان کے والد یا پھر سگے بھائی کے سپرد کیا جائے۔

منگل کے روز کراچی میں پولیس نے لیاقت آباد کے علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر 26 نوعمر لڑکیوں کو بازیاب کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption منگل کو پولیس نے لیاقت آباد کے علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر 26 نوعمر لڑکیوں کو بازیاب کیا تھا

ان بچیوں کی عمریں آٹھ سے دس سال کے درمیان ہیں اور وہ اردو نہیں بول سکتی تھیں۔

پولیس نے چھاپے میں دو خواتین اور ایک مرد کو بھی حراست میں لیا تھا۔

ایس ایس پی نعمان صدیقی کے مطابق ان بچیوں کوگذشتہ چند برس کے دوران قرآن حفظ کروانے کے لیے باجوڑ سے کراچی لایا گیا تھا اور ان کی معلمہ اپنے ایک قرض دار کے قرض واپس نہ کرنے پر انھیں اس کے پاس چھوڑ گئی تاکہ وہ ان کے کھانے پینے کا خرچ اٹھائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رؤف صدیقی کے مطابق حراست میں لی گئی عورت کے بقول اس نے ایک مدرسے کی استانی سے چار لاکھ روپے قرض لیا تھا اور واپس نہ کرنے کے نتیجے میں اس استانی نے یہ بچیاں اس عورت کے مکان پر بھجوا دیں کہ ان کی کفالت کرو۔

اسی بارے میں