کوئٹہ میں آٹھ سالہ بچی کا قاتل گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان ایک عرصے سے شیعہ سنی فرقہ واریت کا شکار ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے آٹھ سالہ بچی سحر بتول کے قتل کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ سحر بتول رواں سال 29 اکتوبر کو اپنےگھر واقع زرغون روڈ سے لاپتہ ہوئی گئی تھی۔ جس کی لاش اسی روز قریبی کچرہ دان سے ملی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کا گھلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا جبکہ اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔

اس واقعہ کے خلاف ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر تنظیموں نے شدید احتجاج کیا تھا۔

ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کوئٹہ اسد رضانے بتایا کہ ملزم کی گرفتاری 25نومبر کوعمل میں لائی گئی ۔

خیال رہے کہ اس گرفتاری کے حوالے سے پریس کانفرنس کوئٹہ میں تین خواتین سمیت چار ہیلتھ ورکرز کی ہلاکت کے دو روز بعد کی گئی جس کے حوالے سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ ملزم جنید شہزاد نے بچی کو ہلاک کرنے کے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے تفتیش کے دوران بتایا کہ اس نے بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی اور اس کے بعد اس خوف سے کہ کہیں بچی اپنے والدین کو اس بارے میں آگاہ نہ کرے اس نے رسی نما کپڑے سے بچی کے گلے کو کس کر اسے ہلاک کردیا ۔

انھوں نے کہا کہ اعتراف جرم اور نشاندہی کے بعد ملزم نے پولیس کو کچرہ دان سے وہ رسی نما کپڑا بھی برآمد کروایا جو قتل کے لیے استعمال ہوا۔

ایس ایس پی کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ نہیں ہے ۔

اسی بارے میں