سندھ: ’توہین مذہب‘ کے مقدمے میں تین سال قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقدمے کے فریادی اعجاز اور ملزم شہباز کی دکانیں ایک دوسرے کے برابر واقع ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر ٹنڈو آدم میں ایک عدالت نے توہین صحابۂ کرام کے مقدمے ایک 24 سالہ ملزم شہباز میواتی کو تین سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

شہباز کے وکیل میاں افضل نے بتایا ہے کہ اگست 2011 میں محمد اعجاز نامی شخص نے ان کے موئکل کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ شہباز کے موبائل فون سے اعجاز کو ایک ایس ایم ایس بھیجا گیا جو توہین صحابۂ کرام کے زمرے میں آتا ہے۔

پولس نے ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا اور اس وقت عدالت نے ملزم کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

ٹنڈو آدم تھانے کے ہیڈ محرر اللہ بخش کا کہنا ہے کہ مقدمہ 13 اگست 2011 کو درج کرایا گیا تھا۔

مقدمے کے فریادی اعجاز اور ملزم شہباز کی دکانیں ایک دوسرے کے برابر واقع ہیں۔

میاں افضل کا کہنا ہے کہ شہباز نے پیر کو سنائے گئے فیصلے سے قبل ٹنڈو آدم کے علما کرام سے رابطہ کیا تھا اور 20 سے زائد لوگوں کی موجودگی میں حلف پر کہا تھا کہ وہ ان پڑھ ہے اور اس نے اس قسم کا ایس ایم ایس نہیں بھیجا اور وہ صحابۂ کرام کی توہین کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مفتی امان اللہ اور مفتی محمد احمد میاں حمادی نے شہباز سے حلف لینے کے بعد یہ فتویٰ دیا تھا کہ اسے کسی نے بھی ایس ایم ایس کرتے نہیں دیکھا ہے اور وہ خود بھی ایسا ایس ایم ایس بھیجنے کی تردید کرتا ہے اس لیے عدالت کو اسے معاف کر دینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ فتویٰ عدالت میں پیش کیے گئے تھے۔

میاں افضل کے مطابق عدالت کے سول جج خالد لغاری نے پیر کے روز فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو تین برس کی قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

شہباز میواتی 30 یوم کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق رکھتا ہے۔

اسی بارے میں