’چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پانچ دسمبر تک ہو جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ گذشتہ 16 ماہ سے خالی پڑا ہے

سپریم کورٹ میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے مقدمے میں اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کو بتایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ پانچ دسمبر تک ہو جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے یہ بات چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیس کی سماعت کرنے والے چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے کہی۔

انھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے حکومت اور قائد حزب اختلاف کافی حد تک قریب ہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پانچ دسمبر سے قبل کر دی جائے گی۔

اٹارنی جنرل کے اس بیان پر عدالت نے کہا کہ اس مقدمے کی اگلی سماعت آٹھ دسمبر کو ہو گی اور اگر اس وقت تک عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا چاہیے۔

’24 نومبر تک الیکشن کمشنر لگائیں، ورنہ جج واپس بلا لیں گے‘

واضح رہے کہ پاکستان میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ گذشتہ 16 ماہ سے خالی پڑا ہے اور اس عرصے کے دوران سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

13 نومبر کو سپریم کورٹ نے اس عہدے کو پُر کرنے کے لیے اپنی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے حکومت سے کہا تھا کہ 24 نومبر تک چیف الیکشن کمشنر مقرر نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنا جج واپس بلا لے گی۔

گذشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی خدمات واپس لے لی تھیں اور یہ عدالتی حکم پانچ دسمبر سے موثر ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے تعلقات عامہ کے اہلکار شاہد کمبوہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ چیف جسٹس ناصر الملک نے سپریم کورٹ کے جج کی خدمات واپس لینے کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں سیکرٹری الیکشن کمیشن کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وفاقی حکومت کو مزید وقت دینے سے انکار کیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کو نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی سربراہی کے لیے وزیر اعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان دو ریٹائرڈ ججوں کے ناموں پر اتفاق ہو گیا تھا مگر اُن دونوں سابق ججوں، تصدق حسین جیلانی اور رانا بھگوان داس نے یہ عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی تھی۔

18ویں ترمیم کے بعد آئین میں چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وضع کیا گیا طریقہ وسیع تر مشاورت پر زور دیتا ہے اور اس میں یہ بھی قید ہے کہ صرف سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہی اس عہدے کے لیے نامزد کیے جا سکتے ہیں۔

آئین کے تحت وزیراعظم قائد حزب اختلاف کے اتفاق رائے سے تین امیدواروں کے نام حکومت اور حزب اختلاف کے ارکان پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتے ہیں اور پھر کمیٹی ان میں سے کسی ایک کو اس عہدے کے لیے چُنتی ہے جس کا تقرر پھر صدرِ مملکت کرتے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد موجودہ چیف جسٹس ناصر الملک سمیت سپریم کورٹ کے متعدد جج اس عہدے پر اپنی ذمہ دایاں ادا کرتے رہے ہیں اور اس وقت سپریم کورٹ کے جج انور ظہیر جمالی اس وقت قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں