الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع کر دی گئی:ایم کیو ایم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ضمانت میں توسیع برطانوی نظامِ قانون میں معمول کی کارروائی کا حصہ ہے:الطاف حسین

ایم کیو ایم کے مطابق لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے الطاف حسین کو لندن میں ان کے وکلا کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ پہلے سے طے شدہ شرائط پر ان کی ضمانت میں 14 اپریل سنہ 2015 تک توسیع کر دی گئی ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق یہ خبر سن کر ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کہا کہ ’ضمانت میں توسیع برطانوی نظامِ قانون میں معمول کی کارروائی کا حصہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سے حکام کو اپنی تحقیقات جلد از جلد مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔‘

گذشتہ جون میں لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار الطاف حسین سمیت تین افراد کو ابتدائی تفتیش کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

اس وقت سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ منی لانڈرنگ کے معاملے میں حراست میں لیے جانے والے 60 سالہ شخص کو جولائی تک کے لیے ضمانت پر رہا کر دیا گیا جبکہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

Image caption یوں سمجھیے کہ میں ریفریشر کورس کے لیے جیل جاتا ہوں:الطاف حسین

دوسری جانب قائد الطاف حسین نے ضمانت پر رہائی کے بعد اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جیل کسی کے لیے سزا کی جگہ ہو گی لیکن’یوں سمجھیے کہ میں ریفریشر کورس کے لیے جیل جاتا ہوں۔‘

الطاف حسین نے لندن میں ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے ٹیلی فون پر کراچی سمیت مختلف شہروں میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے اصولی موقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے اور لندن میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ہو جائے وہ برطانوی حکام سے جھوٹ نہیں بولیں گے اور نہ ہی کسی قیمت پر ’سرنڈر‘ کریں گے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل لندن پولیس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں الطاف حسین کے دفتر پر چھاپے کے دوران وہاں سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی جسے پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

اس کے بعد پولیس نے 18 جون 2013 کو شمالی لندن کے دو گھروں پر چھاپہ مارا تھا اور اس میں بھی پولیس نے’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی تھی۔ پولیس نے سرکاری طور پر ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنی تھی۔

اسی بارے میں