’اگر غلطی ہوئی تو دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ کملیش کا کسی سیاسی جماعت یا ملک دشمن سرگرمی سے تعلق نہیں ہے‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر جامشورو سے 21 سالہ طالب علم کملیش میگھواڑ لاپتہ ہے۔

کملیش میگھواڑ کے والدین کا کہنا ہے کہ ’پولیس موبائل کے ساتھ اہلکار نوجوان کو اٹھا کرگئے ہیں لیکن اب کوئی تسلیم نہیں کر رہا۔‘

کملیش میگھواڑ مہران انجینیئرنگ یونیورسٹی میں شعبے انوائرمینٹل انجینیئرنگ کے طالب علم تھے۔

ان کے چچا راجہ دائم نے بی بی سی کو بتایا کہ 26 نومبر کی شام کملیش دوستوں کے ہمراہ فوٹو سٹیٹ کرانے کے لیے سوسائٹی کالونی گیا تھا،’جہاں ایک موبائل اور ایک دوسری گاڑی میں سوار نامعلوم لوگوں نے اس کا کارڈ چیک کیا اور دو تھپڑ مارنے کے بعد پولیس موبائل کی اگلی نشست پر زبردستی بٹھاکر لے گئے۔‘

راجہ دائم کے مطابق انھوں نے جامشورو پولیس تھانے سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے کملیش کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا، جس کے بعد انھوں نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس کی سماعت 11 دسمبر کو ہوگی۔

تھر کے رہائشی کملیش کے والد سرکاری ٹیچر ہیں جبکہ ایک بھائی زیر تعلیم اور دوسرا سرکاری ملازم ہے۔

راجہ دائم کے مطابق پسماندہ علاقے اور غربت کے باوجود انھوں نے محنت کر کے تعلیم حاصل کی اور بچوں کو یونیورسٹیوں میں بھیج رہے ہیں، اگر اس نوعیت کے واقعات پیش آئیں گے تو اس سے ان کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

راجہ دائم میگھواڑ کے مطابق کملیش کا کسی سیاسی جماعت یا ملک دشمن سرگرمی سے تعلق نہیں ہے، یونیورسٹی کے ماحول میں سیاسی لڑکے نوجوانوں کو زبردستی جلسے جلوسوں میں لے جاتے ہیں یہ بات سب جانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ ہفتے چھ قوم پرست کارکنوں کی لاشیں ملنے کے بعد لاپتہ افراد کے اہلخانہ مزید پریشان ہو گئے ہیں

’جنرل پرویز مشرف کے دور میں زیادہ سے زیادہ شیڈول کاسٹ کے نوجوان فوج میں گئے ہیں، ہم پاکستان فوج کو سلام کرتے ہیں جب بھی برا وقت آیا ہے انھوں نے ہماری مدد کی ہے، ہم پاکستان میں بہت خوش ہیں اگر ایسی کوئی بات ہوتی ہم تو سرحد پر بیٹھے ہیں اور 1947 میں دوسری طرف چلے جاتے۔ ہمارے مفاد پاکستان سے وابستہ ہیں ہم پاکستان کے وفادار شہری ہیں۔‘

دائم میگھواڑ کا کہنا ہے کہ کملیش سے اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہم تحریری طور پر یہ دینے کے لیے تیار ہیں کہ آئندہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔

واضح رہے کہ سندھ میں قوم پرست جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے سو سے زائد کارکن لاپتہ ہیں، جو انھیں شبہ ہے کہ ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں کچھ کارکنوں کی گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواستیں بھی زیرِسماعت ہیں، جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان کی گرفتاریوں سے لاعلمی کا اظہار کر چکی ہیں۔

پچھلے ہفتے چھ قوم پرست کارکنوں کی تشدد شدہ لاشیں ملنے کے بعد لاپتہ نوجوانوں کے والدین اپنے پیاروں کے بارے میں مزید فکرمند ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں