غیر ریاستی عناصر سے اندرونی سکیورٹی پیچیدہ ہو گئی ہے: جنرل راحیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’سکیورٹی کی موجودہ پیچیدہ صورت حال میں قومی سلامتی کو یقینی بنانا ریاست کے ہر ادارے کی ذمہ داری ہے۔ اس کو سمجھنا آسان ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنا نہایت مشکل‘

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ غیر ریاستی عناصر کی وجہ سے ملک کی داخلی سکیورٹی متاثر ہو رہی ہے اور ان پر قابو نہ پایا گیا تو صورتحال گمبھیر ہوسکتی ہے۔

کراچی میں دفاعی نمائش آئیڈیاز 2014 سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے بین الاقوامی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

ڈوبتے جہاز کو بچانے کا فارمولا

انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں قائم سیکیورٹی کے روایتی تصور کو غیر ریاستی عناصر کی شکل میں ایک نئے خطرے کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ غیر ریاستی عناصر بین الاقوامی سطح پر بہت منظم اور طاقتور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ’سیاسی طور پر متحرک ان غیر ریاستی اداروں نے دہشت گردی کے ذریعے ریاستی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان تخریبی قوتوں نے معاشرے کے تعمیری ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ تباہی اتنی بڑی ہے کہ اس سے پہلے کبھی دو ملکوں میں جنگ میں بھی نہیں ہوئی۔ یہ غیر ریاستی عناصر عالمی امن کے لیے واحد تو نہیں البتہ براہ راست خطرہ ضرور ہیں۔‘

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان میں ان غیر ریاستی عناصر کی موجودگی میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوتی چلی جا رہی ہے اور بعض صورتوں میں ان سے لڑنا کسی ایک ملک یا ریاست کے بس کی بات نہیں رہی ہے۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان دنیا کے لیے مثال ہے جو گذشتہ 35 سال سے انہی عناصر کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’سکیورٹی کی موجودہ پیچیدہ صورت حال میں قومی سلامتی کو یقینی بنانا ریاست کے ہر ادارے کی ذمہ داری ہے۔ اس کو سمجھنا آسان ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنا نہایت مشکل۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی حمایت سے بغیر کسی امتیاز کے ملک میں دہشت گردی کو ختم کر دیا جائے گا۔

جنرل راحیل کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ہم پرخلوص ہیں اور ہمارا عزم غیر متزلزل۔ ہم اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ غیر ریاستی عناصر صرف شدت پسند یا بندوق بردار دہشت گرد گروہ نہیں بلکہ یہ مختلف شکلوں میں موجود ہیں لیکن ان سے لاحق خطرات اتنے ہی سنگین ہیں۔

’دیگر غیر ریاستی عناصر بھی بالخصوص ہمارے لیے اتنے ہی اہم ہیں۔ ان میں بعض ملکوں سے امیر غیر ملکی کمپنیاں اور وہ غیر سرکاری ادارے یا این جی اوز شامل ہیں جو ریاستی پالیسیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔‘

جنرل راحیل نے کہا کہ دہشت گردوں سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہیں اور بدلتے حالات کے ساتھ دفاعی ضروریات بھی تبدیل ہو رہی ہیں جب کہ مخصوص حالات کی وجہ سے مہاجرین کا دوسرے ملک جانا بھی خطرے کا باعث ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اپنی سوچ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لہٰذا تنازعات اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حقیقت پسندانہ کردار ادا کرنا ہوگا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا حل ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی سکیورٹی ہمسایہ ملکوں کی سکیورٹی پر بھی منحصر ہے اور ہمسایہ ممالک میں سکیورٹی اور استحکام خطے میں سکیورٹی اور استحکام ہونے کے لیے ضروری ہے۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ اندرونی سکیورٹی سے ہی بیرونی خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے اور صرف سرحدوں پر سکیورٹی سے ملک کی اندرونی سکیورٹی ممکن نہیں ہے۔

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ مذہب اورگروہی شناخت بھی جنگوں کی نئی وجوہات بن رہی ہیں اور ہمیں اپنے نظریات اور ثقافت کے تحفظ کے لیے کام کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں