ایڈز سے متاثرہ خون کی تحقیقات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈاکٹر جویریہ منان سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان سے اس تھیلیسیمیا سینٹر کا معلوم کیا جاسکے جس میں رجسٹرڈ بچوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا

پاکستان میں تھیلیسیمیا کے مریضوں میں انتقالِ خون کے دوران ایچ آئی وی وائرس کی منتقلی کی خبروں کے بعد صوبائی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے۔

اِس کمیٹی نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے بعد بی بی سی کو بتایا ہے کہ فی الحال تھیلیسیمیا کے کسی بڑی عمر کے مریض یا بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔

وزیرِ اعلی پنجاب کے مشیر صحت سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ اِس سلسلے میں صوبے کے تھیلیسیمیا سینٹر کی سکرینگ یو این ایڈز کی مدد سے کرائی جائے گی تاکہ اگر کسی بھی سینٹر میں غیر معیاری خون منتقل کیا جا رہا ہے جو ایچ آئی وی کا سبب بن رہا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے مشیر صحت سلمان رفیق نے بی بی سی کو بتایا ’گذشتہ روز مقامی ذرائع ابلاغ نے خبر نشر کی تھی کہ لاہور کے ایک تھیلیسیمیا سینٹر کے چند بچوں میں ایچ آئی وی کے وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو غیر معیاری انتقالِ خون کی وجہ سے ہوا۔‘

مقامی ذرائع ابلاغ پر اس خبر کے نشر ہونے کے بعد صوبائی مشیرِ صحت نے ایک کمیٹی بنائی جو ان بچوں کا پتا لگائے جو اس مرض کا شکار ہوئے۔

سلمان رفیق کے مطابق جب اس کمیٹی نے لاہور میں قائم ایک نجی تھیلیسیمیا سینٹر پر جا کر ان کا ریکارڈ چیک کیا تو وہاں ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

انھوں نے بتایا ’اِس واقعے کی مذید تحقیق سے معلوم ہوا کہ چند دن قبل تھیلیسیمیا پر ایک کانفرنس کے دوران تھیلیسیمیا فیڈریشن آف پاکستان کی ڈاکٹر جویریہ منان نے انکشاف کیا تھا کہ انھیں ایسے پرائیویٹ تھیلیسیمیا سینٹر کا پتہ چلا ہے جہاں غیر معیاری انتقال خون کی وجہ سے دس سے 15 بچے ایڈز کا شکار ہو گئے ہیں تاہم اِس کانفرنس کے بعد وہ بیرونِ ملک دورے پر چلی گئیں اور ان کے ساتھ اب تک رابطہ نہیں ہوا۔‘

جب بی بی سی نے پاکستان تھیلیسیمیا کی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر یاسمین راشد نے رابطہ کیا تو انھوں نے بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق سے انکار کیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی ایک ساتھی ڈاکٹر جویریا منان نے ایک کانفرنس میں اپنا مقالہ پڑھتے ہوئے یہ بات کی تھی کہ وہ ایسے تھیلیسیمیا کلینک پر تحقیق کر رہی ہیں جہاں غیر معیاری خون کے انتقال کی وجہ سے بچوں کو ایڈز ہوا تاہم انھوں نے اِس معاملے میں تفصیلی رپورٹ جمع نہیں کرائی۔

ادھر اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ متاثر ہونے والے بچوں کا مفت علاج کرنے اور ان کے ساتھ آنے والوں کی رہائش کا بندوبست کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن انھیں اب تک کسی بھی بچے کے گھر کا پتہ یا نام معلوم نہیں ہوسکا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کئی بار اُن نامہ نگاروں سے رابطہ کر چکے ہیں جنھوں نے بچوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کی خبریں شائع یا نشر کی تھیں۔

ڈاکٹر جویریہ منان سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ ان سے اس تھیلیسیمیا کے سینٹر کا معلوم کیا جاسکے جس میں رجسٹرڈ بچوں میں ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔

واضع رہے گذشتہ روز پاکستان کے مقامی ٹی وی چینلز نے صوبہ پنجاب میں دس سے 15 ایسے بچوں میں ایڈز کی تشخیص کی خبریں نشر کی تھیں جو پہلے ہی تھیلیسیمیا کے مریض تھے اور دوران منتقلی خون اب ایڈز کا شکار ہوگئے۔

ٹی وی چینلز نے بعد میں ان بچوں میں ہیپاٹائٹس کے مرض کی بھی خبریں نشر کی تھیں۔

اسی بارے میں