قیدیوں کو قانونی مدد کی عدم فراہمی پر عدالتی نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ LAHORE
Image caption درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ حکومت عرب ملکوں کی جیلوں میں قید پاکستانیوں سے لا علم ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی لاہور ہائی کورٹ نے عرب ممالک میں قید پاکستانیوں کو حکومت کی جانب سے قانونی مدد کی عدم فراہمی کے خلاف مقدمے میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

یہ نوٹس جسٹس منصور علی شاہ نے جاری کیے۔ یہ درخواست قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان اور قیدیوں کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ حکومت عرب ملکوں کی جیلوں میں قید پاکستانیوں سے لاعلم ہے اور اگر سفارت خانوں کو اس بارے میں کوئی معلومات ہوں بھی تو وہ پاکستانیوں کو کوئی قانونی مدد فراہم نہیں کر رہے۔ گذشتہ دو ماہ میں سعودی عرب میں نو پاکستانیوں کے سرقلم کیے گئے ہیں۔

جسٹس پاکستان پروجیکٹ کے مطابق دوسرے ملکوں میں کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں میں سے 96 فیصد خلیجی ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ ان پاکستانیوں میں سے تقریباً 90 فیصد سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور اومان میں ہیں اور یہ لیبر زیادہ تر تعمیرات اور اس سے متعلقہ دوسرے شعبوں سے وابستہ ہے۔

دفترخارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کی جیلوں میں اس وقت 700 پاکستانی قید ہیں، جن میں سے 22 کو موت کی سزا ہو چکی ہے۔ موت کی سزا پانے والے اکثر افراد پر منشیات سمگل کرنے کا الزام ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ مشرق وسطی کے ملکوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عام ہیں اور یہ پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ بیرون ملک بھی اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے کیونکہ ان کے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے حکومت کی ذمےداری ختم نہیں ہوتی۔

اسی بارے میں