اسلام آباد: سندھ ہاؤس سے جواں سال لڑکی کی لاش برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کنول اور کامران دونوں ہی کے والد سندھ ہاوس میں ملازم تھے اور دونوں نے اکٹھے پچپن گزارا

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں واقع ملازمین کی کالونی سے ایک جواں سال لڑکی کی لاش برآمد ہوئی ہے جس کی عمر 26 برس بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق لڑکی کی موت بظاہر خودکشی ہی لگ رہی ہے۔ یہ واقعہ سنیچر کی شام کو دیر سے پیش آیا۔

پولیس نے لڑکی کا نام کنول بتایا ہے جو کہ سندھ ہاؤس میں کام کرنے والے ایک خاکروب اسحاق مسیح کی بیٹی ہے۔ پولیس کے مطابق کنول وہ میریئٹ ہوٹل میں ملازمت کر رہی تھی اور غالباً وہ اپنی نوکری چھوڑ چکی تھی۔

ایس پی سٹی رضوان گوندل نے بتایا کہ ’ کنول کے کامران نامی شخص کے ساتھ مراسم تھے۔ جو کہ نادرا میں ملازم ہے۔ یہ شحض پہلے سے شادی شدہ تھا اور اس کے بچے بھی تھے۔ شاید اپنی محبت میں ناکامی ہی اس خودکشی کی وجہ بنی ہے۔‘

پولیس کے مطابق لڑکی کامران کے گھر آئی تھی جس پر کامران نے ان کے والد اور بھائی کو فون کر کے بلایا۔ واپس جاتے ہوئے گھر کی سیڑھیوں پر لڑکی نے خود کو گولی مار دی جس کے بعد انھیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کنول اور کامران دونوں ہی کے والد سندھ ہاوس میں ملازم تھے۔ دونوں خاندان گذشتہ 32، 33 سال سے ملازمین کی کالونی میں ساتھ رہ رہے ہیں جبکہ کامران اور کنول نے بھی پچپن اکٹھے گزارا تھا۔

پولیس اور اعلیٰ حکام معاملے کی مزید چھان بین کر رہے ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ اور اس رخ سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا یہ واقعی خودکشی ہے یا قتل۔

اسی بارے میں