تحریکِ انصاف کے کارکن کی ہلاکت کے خلاف یوم سوگ کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ EPZ
Image caption حکومت نے عمران خان کو ایک بار پھر مذکرات کی پیش کش کی ہے

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر فیصل آباد کے تھانہ سمن آباد میں سابق وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ سمیت 300 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ پارٹی کے رہنما عارف علوی کہتے ہیں کہ موجودہ صورتِ حال میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا بہت مشکل ہیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان فیصل آباد میں موجود ہیں جبکہ تحریکِ انصاف کے کارکن حق نواز کی لاش لے کر مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سابق صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کے ڈیرے اور رہائش گاہ کے باہراحتجاج کر رہے ہیں۔

فیصل آباد: پی ٹی آئی، نواز لیگ کے کارکنان میں تصادم، ایک ہلاک

پی ٹی آئی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر منگل کو پورے ملک میں کارکن کی ہلاکت کے باعث یوم سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔

تھانہ سمن آباد کے محرر فرزند علی نے بی بی سی کو بتایا کہ رانا ثنا اللہ، عابد شیر علی اور ڈی سی او فیصل آباد سمیت 10 معلوم اور 300 نامعلوم افراد کے دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حق نواز کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی عطا اللہ کی مدعیت میں درج ہوا جبکہ مقتول کا پوسٹ مارٹم ہونا باقی ہے۔

فیصل آباد میں ڈی ٹائپ چوک پہنچنے پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کارکنان سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق نواز کی قربانی ضائع نہیں ہوگی۔

وزیراعظم نواز شریف کے نام پیغام میں عمران خان نے کہا کہ ’ آپ نے ہمیشہ ظلم کی سیاست کی پولیس کو غلط استعمال کیا، پولیس اور گلوؤں کے ساتھ مل کر لوگوں پر ظلم کیا، مگر اب پاکستانی قوم بدل چکی ہے۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ وہ کراچی جائیں گے اور انھیں لاہور جانے کا بھی انتظار ہے۔

عمران خان نے دعوی کیا کہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم جوڈیشل کمیشن نہیں بنوائیں گے۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے اگر کوئی شک تھا کہ آپ کسی وجہ سے جوڈیشل کمیشن نہ بنانا چاہتے ہوں، اگر مجھے کوئی شک تھا کہ آپ نے دھاندلی نہ کی ہو لیکن اب میرا وہ شک دور ہو گیا ہے، آپ لوگوں کو قتل کر سکتے ہیں لیکن اپ عدالتی کمیشن بنا کر اس ملک کو انصاف نہیں دینا چاہتے جو 2013 کے انتخابات میں فراڈ ہوا تھا۔‘

اس سے قبل وفاقی وزیر پرویز رشید نے پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان کو پیغام دیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات واپس لے لیں حکومت مذاکرات کے لیے ان کی منتظر ہے۔

تاہم اس کے فوراً بعد پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا مشکل ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا تھا ’جب حکومت کی جانب سے ہماری لاشیں گرائی جا رہی ہوں تو ہم کیسے مذاکرات کر سکتے ہیں؟‘

ادھر پی ٹی آئی کےٹوئٹر اکاؤنٹ میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے کارکن کی ہلاکت کے بعد دیگر شہروں میں پی ٹی آئی کے کارکنان نے احتجاج کا آغاز کیا جن میں لاہور، پشاور اور کراچی کے علاوہ حیدرآباد، کوئٹہ بھی شامل ہیں۔

نامہ نگار صبا اعتزاز کے مطابق فیصل آباد میں پولیس حکام کی جانب سے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیر کی صبح پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا جبکہ بعد ازاں آنسو گیس کے شیل بھی پھینکے گئے۔ تاہم پولیس کی جانب سے تشدد کی پالیسی دکھائی نہیں دی۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کے ڈنڈا برادر مسلح جھتوں نے سکولوں، دکانوں اور سڑکوں پر ہلا بول کر کاروبار زندگی مثاثر کرنے کی کوشش کی۔

یاد رہے کہ فیصل آباد میں عمران خان کی آمد سےکئی گھنٹے قبل شروع ہونے والے احتجاج کے دوران حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے درمیان تصادم کا آغاز ہوا اور ناولٹی چوک میں فائرنگ سے پاکستان تحریک انصاف کا 24 سالہ کارکن حق نواز ہلاک ہو گیا تھا۔

فیصل آباد پولیس کے اہلکار فضل الرحمان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ناولٹی برج پر پاکستان مسلم لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنان کے درمیان جھڑپ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

اسی بارے میں