عمران خان، کیری پیکر اور فیصل آباد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کیا عمران خان پاکستانی سیاست کے کیری پیکر ہیں یا ہو سکتے ہیں؟

پاکستان آنے کے بعد جن چند دوستوں سے فوری ملاقات ہوئی ان میں بی بی سی اردو کے ٹی وی پارٹنر اور ’آج ٹی وی‘ کے کرتا دھرتا شہاب زبیری بھی تھے۔ موصوف کی دلکشی کے بارے میں اس سے زیادہ کیا کہوں کہ دس منٹ کے لیے ملنے جاؤ تو گھنٹہ تو کہیں نہیں گیا۔

اور ظاہر ہے کہ آج کل کے ماحول میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں بیٹھیں، سیاست پر بات ہو اور عمران خان کا ذکر نہ ہو؟ شہاب کہنے لگے آپ کو کیری پیکر یاد ہے؟

اگر کیری پیکر کے میدان میں اترنے سے چند ماہ پہلے کوئی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یا آئی سی سی کو کہتا کہ عنقریب ایک وقت ایسا آئے گا جب گیند سفید رنگ کی ہو گی، سائٹ سکرین سیاہ ہو گی، کرکٹ رات کے اندھیروں کو چیرتے ہوئے جگمگ برقی قمقموں کی روشنی میں کھیلی جائے گی اور کھلاڑی سفید کپڑوں کی بجائے رنگ برنگی وردیاں پہنے میدان میں اتریں گے تو آئی سی سی کا کیا رد عمل ہوتا؟

یقیناً آئی سی سی کے دانشور اور پالیسی میکر ایسے شخص کو پاگل سمجھتے، کوئی ہنس کے ٹال دیتا تو کوئی اسے وقت ضائع کرنے پر ڈانٹتا اور آئندہ آئی سی سی کے کسی بھی اجلاس میں شمولیت پر تو اس پر پابندی لگتی ہی لگتی۔

لیکن پھر کیری پیکر آیا، اس نے جو چاہا کیا، جو خواہش کی وہ پایا اور پھر یوں غائب ہوا کہ اس کی عمر کے آخری بیس سال شاید ہی کسی نے اس کا نام بھی لیا ہو اور آج کل کی نسل میں تو شاید ہی گوگل کیے بغیر کوئی کہہ سکے کہ وہ کون تھا۔

لیکن کرکٹ کے امور میں اس کی مختصر مداخلت نے کھیل کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔ گیند بھی سفید ہو گئی، سائٹ سکرین بھی سیاہ، نائٹ کرکٹ بھی عام اور وردی بھی رنگین۔ کیری پیکر کو کھیل کی کوئی سمجھ یا اس سے کوئی دلچسپی تھی یا نہیں، کرکٹ کے لیے وہ گیم چینجر ثابت ہوا۔

گو شہاب زبیری نے یہ ذکر پاکستانی میڈیا میں مچے تلاطم کے بارے میں کیا تھا، لیکن میرا دھیان عمران خان کی سیاست کی جانب گیا۔ کیا وہ پاکستانی سیاست کے کیری پیکر ہیں یا ہو سکتے ہیں؟

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انھوں نے ابھی سے ہی پاکستانی سیاست پر اس کے روایتی کھلاڑیوں کی اجارہ داری کو توڑا نہیں تو بہت حد تک کمزور ضرور کر دیا ہے۔ انتخابی سیاست میں تو شاید ابھی تک وہ ان روایتی کھلاڑیوں کے ہاتھوں مجبور ہیں لیکن گلی محلے کی سیاست میں جو باتیں آج ہو رہی ہیں وہ عمران خان سے پہلے شاید نہیں ہوتی تھیں۔

مثلاً چند ہفتوں کے اندر اندر پٹرول کی قیمتوں میں 15 فیصد سے بھی زیادہ کمی کا سہرا عمران خان کے سر باندھا جا رہا ہے۔ فیصلہ تو حکومت کا تھا لیکن کوئی وزیر کچھ بھی کہے، ایک عام تاثر یہی ہے کہ اگر عمران خان کی طرف سے دباؤ نہ ہوتا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کم ہونے کو حکومت اپنا بجٹ خسارہ پورا کرنے میں لگا دیتی اور مقامی سطح پر قیمتیں کبھی نہ گرتیں۔

یہ صحیح ہے یا غلط، اس سے قطع نظر، کسی گلی، محلے یا سڑک پر جس سے بات کرو وہ یہی کہتا ہے۔

ایک اور قصہ سنیے۔ پچھلے دنوں کراچی میں ایک نسبتاً خالی سڑک پر ٹریفک لائٹ کے لال ہونے پر ایک سوزوکی کھڑی ہوئی تو اس کے پیچھے آنے والی مسلح محافظوں سے بھری ہوئی ایک بڑی پراڈو نے زور زور سے ہارن بجایا کہ اشارہ توڑو اور آگے چلو یا آگے سے ہٹو۔

سوزوکی سے ایک پتلا دبلا لڑکا باہر نکلا اور لال بتی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا، ’نظر نہیں آتا، بتی لال ہے، صبر کرو۔‘ یہ کہہ کر واپس گاڑی میں بیٹھا اور تب تک نہ ہلا جب تک بتی سبز نہیں ہو گئی۔ پراڈو میں بیٹھا وی آئی پی اور اس کے محافظ دبکے بیٹھے رہے اور کچھ نہ کر پائے۔

راوی کا کہنا ہے کہ ایک عام آدمی میں وی آئی پی کلچر کے خلاف اس نفرت کے بے باک اظہار کی جرات صرف عمران خان کی وجہ سے آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستانی میڈیا پر آج کل بحث کا ایک بڑا موضوع یہ ہے کہ عمران خان کی سیاست میں سنجیدگی ہے یا نہیں

میں نے یہ بھی سنا ہے کہ گو پاکستان میں کبھی کوئی منتخب حکومت کسی واضح ایجنڈے کے ساتھ اقتدار میں نہیں آتی لیکن جس طرح سے عمران خان کی سیاست نے نواز شریف کے مبہم ایجنڈے اور واضح پالیسی کے فقدان کا بھانڈا پھوڑا ہے، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

بہت سے لوگ اس بات پر بھی مصر ہیں کہ عمران خان کی سیاست پر جس طرح سے پاکستانی معاشرہ بٹا ہے، اس سے پہلے یہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دیکھا گیا تھا۔ دیہات کا تو پتہ نہیں لیکن شہروں میں یہ دراڑ چھوٹے، بڑے، مڈل کلاس ہر طرح کے خاندان میں نظر آتی ہے۔

پاکستانی میڈیا پر بحث کا ایک بڑا موضوع یہ ہے کہ عمران خان کی سیاست میں سنجیدگی ہے یا نہیں، اور کیا وہ اپنی احتجاجی سیاست کے ذریعے اقتدار حاصل کر پائیں گے؟ ظاہر ہے اس سوال پر جتنے منہ اتنی ہی آرا ہیں اور ایسے معاملے میں کبھی بھی اتفاق رائے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

لیکن یہ عین ممکن ہے کہ آنے والے وقتوں میں یہ کہا جائے کہ بالکل جس طرح کھیل میں کسی قسم کی براہ راست دلچسپی کے بغیر بھی کیری پیکر نے کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا، عمران خان کچھ ایسا ہی پاکستان کی سیاست کے ساتھ کرنے جا رہے ہیں۔

کیری پیکر کی ورلڈ سیریز چند ہی برسوں میں ختم ہو گئی تھی اور اس کے بعد ان کا نام کم ہی سنا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی احتجاجی سیاست کا بھی یہی مستقبل ہو لیکن یہ بعیدالقیاس نہیں کہ ایسا ہونے سے پہلے پاکستانی سیاست وہ نہ رہے جس سے ہم آج واقف ہیں۔

اسی بارے میں