’نوبیل انعام تو ایک طویل سفر کا نقطۂ آغاز ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملالہ نے امن انعام کے ساتھ ملنے والی رقم اپنے آبائی علاقے سوات اور شانگلہ میں سکولوں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا

سوات سے تعلق رکھنے والی پاکستانی طالبہ اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم کارکن ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ امن کا نوبیل انعام ان کے سفر کا نقطۂ آغاز ہے اور اس انعام سے بچوں کے حقوق کی مہم کو آواز ملی ہے۔

نوبیل انعام کی وصولی کے لیے ناروے میں موجود ملالہ نے منگل کو بی بی سی اردو سے ایک خصوصی بات چیت میں کہا کہ یہ ایوارڈ ان کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے۔

یہ تقریب بدھ کو اوسلو میں منعقد ہوگی جہاں ملالہ بھارتی سماجی کارکن کیلاش ستھیارتھی کے ہمراہ مشترکہ طور پر 2014 کا نوبیل امن انعام وصول کریں گی۔

خصوصی انٹرویو میں ملالہ کا کہنا تھا کہ ’یہ ایوارڈ ملنا تو ابھی صرف میرے سفر کا آغاز ہے جو ایک بہت لمبا سفر ہے۔‘

’یہ ایوارڈ صرف میرے لیے نہیں ہے بلکہ میرے پورے ملک کے لیے ہے، یہ ان بچوں کے لیے ہے جو کہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔ نوبیل پیس پرائز سے بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی مہم کو آواز مل گئی ہے۔‘

ملالہ نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ تعلیم سے محروم بچوں کی آواز دنیا بھر تک پہنچا سکیں اور وہ چاہیں گی کہ عالمی رہنما آگے بڑھ کر اس مہم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت پوری دنیا میں 57 ملین بچے سکولوں سے محروم ہیں اور یہ ان کا خواب ہے کہ وہ ایسا دن دیکھیں جب ان میں سے کوئی بھی بچہ سکول سے باہر نہ ہو۔

’شام اور نائیجیریا میں بہت بڑی تعداد میں بچے بےگھر ہوئے ہیں اور تعلیم سے محروم ہیں اور میرے اپنے ملک پاکستان میں بھی 50 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔‘

ملالہ نے امن انعام کے ساتھ ملنے والی رقم اپنے آبائی علاقے سوات اور شانگلہ میں سکولوں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا۔

کیلاش ستھیارتی کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل انعام ملنے کو انہوں نے اپنے لیے باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑی بات ہے کہ دونوں ممالک میں تعلیم کے لیے کام کرنے والوں کو مشترکہ طور پر نوبیل امن ایوارڈ دیا جا رہا ہے اور ’یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہم دونوں ممالک، پاکستان اور بھارت امن سے رہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہمیں ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن اگر ہم ایک دوسرے کا بھلا نہیں چاہیں گے تو کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا۔‘

ملالہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے اصل مسائل غربت، بچوں کی تعلیم سے محرومی اور خواتین کو بنیادی حقوق نہ ملنا ہیں اور ہمیں ان مسائل کو مل کر حل کرنا چاہیے۔

ان کے بقول سرحدی تنازعات اور ایک دوسرے پر الزام تراشی بند ہونی چاہیے کیونکہ ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم امن کی ہی بات کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دونوں ممالک میں تعلیم کے لیے کام کرنے والوں کو مشترکہ طور پر نوبیل امن ایوارڈ ملنا ہمارے لیے فخر کی بات ہے۔ ملالہ یوسفزئی

ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ان کے یا ان کی مہم کے خلاف بولنے والے لوگ اقلیت میں ہیں اور پاکستان کی اکثریت نے کل بھی ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی تھیں اور آج بھی اکثریت تعلیم کے فروغ کے لیے ان کے پیغام کی حامی ہے۔

‘پاکستان بھر سے لوگ مجھ سے رابطہ کر کے میری مہم کی حمایت کر رہے ہیں لہذا میں خوش ہوں کہ میرا ملک پاکستان میری مہم میں میرے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔‘

قبل ازیں ناروے میں اپنے اعزاز میں تقریب کے بعد کیلاشی ستھیارتی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ملالہ یوسف زئی نے سوات میں طالبان کی آمد اور اس کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے میں مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم آواز اٹھائیں گے، ہر کسی کو امید تھی کہ سب خود بخود ٹھیک ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا جب تک ہم نے آواز نھیں اٹھائی اور حالات بدلے۔‘

ملالہ یوسف زئی نے دیگر ساتھیوں کے علاوہ پاکستانی طالبات کائنات اور شازیہ جو طالبان کے حملےکے موقع پر ان کے ہمراہ تھی کی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

اپنے خطاب میں انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایسا کیوں ہے کہ جدید اور ترقی یافتہ دنیا میں اب بھی بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں بچے آئی پیڈ یا کمپیوٹر یا کوئی اور چیز نہیں مانگ رہے بلکہ کتاب اور قلم کا مطالبہ کرتے ہیں۔

’ہم بچوں کو فقط کتاب اور قلم کیوں نہیں دے سکتے، ہم کیوں انپے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے،جو یقینی طور پر ان کے مستقبل اور دنیا کو بدل سکتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ملالہ یوسف زئی نے کہا اسلام بچوں اور بڑوں کی تعلیم کا مخالف نہیں لیکن بدقسمتی سے بہت سی خواتین گھر کی چاردیواری میں رہنے پر مجبور ہیں اور وہ تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم ہیں۔

چائلڈ لیبر پر بات کرتے ہوئے ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ ان کا خواب ہے کہ ہر بچہ تعلیم حاصل کرے اور وہ ضرور پاکستان جائیں گی اور اس کام کو آگے بڑھائیں گی۔

اسی بارے میں