جوڈیشل کمیشن بنا دیں، احتجاج ملتوی کر دیں گے: عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کا اگست سے اسلام آباد میں مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف احتجاج جاری ہے

پاکستان کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے غیرمشروط مذاکرات کی پیشکش پر تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت جیسے ہی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے گی وہ احتجاج کا سلسلہ ملتوی کر دیں گے۔

بدھ کی شب اسلام آباد کے ڈی چوک میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر حکومت کی نیت ٹھیک ہے تو 24 گھنٹے میں جوڈیشل کمیشن بن سکتا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے بھی کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان تحریکِ انصاف سے غیرمشروط مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب عمران خان کو اپنے احتجاجی پروگرام کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ ’ہم نواز شریف کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے لیکن ہمارا اجتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کمیشن نہیں بن جاتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہمارے احتجاج میں 48 گھنٹے بچے ہیں اور جیسے ہی جوڈیشل کمیشن بیٹھے گا ہم فوراً احتجاج کا نیا سلسلہ ملتوی کر دیں گے۔

عمران کا کہنا تھا کہ حکومت اس وقت تحریکِ انصاف کے احتجاج کی وجہ سے دباؤ میں آئی ہے اور اگر یہ دباؤ نہ رہا تو یہ معاملہ پھر لٹک جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی مدت پہلے ہی طے ہو چکی ہے اور ارکان کا انتخاب کوئی بڑا معاملہ نہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کمیشن کی ٹرمز آف ریفرنس سیدھی سی ہے یعنی 2013 الیکشن کی تفتیش۔ آپ کل مان جائیں ہم احتجاج ملتوی کر دیتے ہیں۔‘

تحریکِ انصاف کے سربراہ نے کہا کہ وہ کراچی سمیت کسی بھی شہر کو بند نہیں کرنا چاہتے لیکن حکومت نے ان کے لیے احتجاج کے سوا کوئی بھی راستہ نہیں چھوڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کمیشن تشکیل دے دیتی ہے تو وہ احتجاج کا سلسلہ پارلیمان کے سامنے تک محدود کر لیں گے اور وہاں بیٹھ کر کمیشن کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں گے۔

اس سے قبل بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف نے تحریکِ انصاف سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے اجازت دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت غیرمشروط لیکن بامقصد مذاکرات کرے گی جو اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہوں گے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ تحریکِ انصاف کی جانب سے وزیرِ اعظم کے استعفے کا مطالبہ غیر آئینی اور غیرقانونی تھا اور وہ اس مطالبے سے دستبرداری کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے میں اگر دھاندلی ثابت ہوئی تو حکومت یا اسمبلی کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا اور کمیشن کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے سب کو تسلیم کرنا ہوگا۔

انھوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی مذاکراتی ٹیم دو ارکان پر مشتمل ہوگی جس میں وہ خود اور احسن اقبال شامل ہیں۔

اسحاق ڈار نے عمران خان سے اپیل کی وہ غیر مشروط مذاکرات کے اعلان کے بعد اپنے آنے والے جلسوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کریں۔

اس سے قبل بدھ کو اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے لیے سپریم کورٹ کو لکھے گئے خط میں جو مبہم سوال رکھا گیا ہے اس سے بہتر ہے کہ 2013 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے لیے کمیشن تشکیل ہی نہ دیا جائے

ان کا کہنا تھا کہ یہ کمیشن 10 سال تک اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر سکتا اور نہ ہی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں یہ تسلیم کیا تھا کہ ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک کمیشن تشکیل دیا جائےگا جس کو مبینہ دھاندلی سے متعلق تفتیش کرنے کا بھی اختیار ہوگا اور اس میں انٹیلیجنس بیورو، ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے اہلکار بھی شامل ہوں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ ملکی تاریخ میں اس سے پہلے بھی سنہ 1956 کے کمیشن ایکٹ کے تحت جوڈیشل کمیشن بنتے رہیں ہیں لیکن ان کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آ سکی تھی کیونکہ ایسے کمیشن کو صرف انکوائری کرنے کا اختیار ہے تفتیش کا نہیں۔

یاد رہے کہ ملکی تاریخ میں دو ایسے کمیشن بنائے گئے ہیں جو سنہ 1956 کمیشن ایکٹ کے تحت نہیں بنے۔ ان میں ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اُسامہ بن لادن کی ہلاکت اور میمو تنازع کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن شامل ہیں اور ان دونوں کمیشن کی رپورٹ بھی تاحال منظر عام پر نہیں آ سکی۔

اسی بارے میں