’ظلم سہتے رہے تو تبدیلی کبھی نہیں آ سکےگی‘

Image caption تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ شہر میں 40 مقامات پر دھرنے دیے گئے ہیں

کاشت کار اختر زمان ایک ایسے نئے پاکستان کے خواہش مند ہیں جہاں انھیں فصل کے اچھے دام ملے سکیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کام صرف عمران خان ہی کر سکتے ہیں۔

کراچی میں نمائش چورنگی پر دوپہر کو موجود تحریک انصاف کے چند درجن کارکنوں اور ہمدردوں میں اختر زمان بھی شامل تھے، جن کی رہائش لالو کھیت میں ہے۔

50 سالہ باریش اختر زمان بتاتے ہیں کہ گذشتہ برس چاول کی فصل 29 سو روپے من فروخت ہوئی تھی اور آج 12 سو روپے من میں کوئی لینے کو تیار نہیں وہ اس لیے جلسے میں شرکت کے لیے آئے ہیں تاکہ نیا پاکستان بنے اور انھیں ان کا حق مل سکے۔

Image caption کراچی کے مختلف مقامات پر پی ٹی آئی کے دھرنوں میں بچوں اور خواتین نے بھی شرکت کی

’اس سے پہلے جو بھی لوگ آئے ہیں وہ کھانے والے ہیں ایک بار زرداری آتا ہے تو دوسری بار نواز شریف، اب عمران خان آئے گا تو ہم اس کے لیے پوری جان کی بازی لگائیں گے۔‘

شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار کے سامنے موجود نمائش چورنگی پر دوپہر تک دھرنے کے شرکا کی تعداد درجنوں میں تھی، جبکہ پولیس نے دھرنے سے کئی فرلانگ دور سڑک کو بند کر دیا تھا۔

لطیف خان دھرنے کے قریبی علاقے پٹیل پاڑہ سے دھرنے میں آئے تھے، ان کی تیل کی دکان ہے۔ وہ ہڑتال سے تو اتفاق نہیں کرتے لیکن اب جمعیت علمائے اسلام کی بجائے تحریک انصاف کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ جس کی وجہ وہ سیاسی نظریہ یا پروگرام نہیں بلکہ قومیت بتاتے ہیں۔ بقول ان کے عمران پٹھان ہیں، خان صاحب ہے، اس کے دیدار کے لیے آئے ہیں۔

Image caption دھرنے سے خطاب میں عمران خان نے کراچی کےعوام کا دن ضائع کرنے پر معذرت بھی کی

سندھ کے محکمۂ تعلیم نے تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا اعلان کیا تھا، لیکن حاضری کم ہونے کے باعث طلبہ کو واپس لوٹنا پڑا جبکہ جامعات نے اپنے پرچے ملتوی کر دیے تھے۔ دھرنے میں پیٹھ پر بیگ لٹکائے ہوئے بی ایس فائنل ایئر کے طالب علم منصور احمد بھی آئے ہوئے ہیں۔ ان کا پرچہ بھی ملتوی ہو گیا ہے، لیکن اب انھیں خوشی ہے کہ وہ اس احتجاج میں شریک ہو سکے ہیں۔

منصور احمد کا خیال ہے کہ عمران خان تبدیلی لے کر آ رہے ہیں اور اگر انھوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا تو تبدیلی آنا ممکن نہیں اور آنے والی نسلیں زرداری اور نواز شریف کی غلام ہوکر رہ جائیں گی۔

Image caption نمائش چورنگی سے ٹاور تک ایم اے جناح روڈ پر کئی تجارتی مراکز اور ہول سیل مارکیٹیں ہیں

’میرے خیال میں تبدیلی یہ ہے کہ اگر کوئی رہنما سچ کہہ رہا ہو اور ظلم کے خلاف بول رہا ہو تو ہمیں اس کے لیے باہر آنا چاہیے اگر ظلم سہتے رہے تو تبدیلی کبھی نہیں آ سکےگی اور ہمارے حالات بدتر ہوتے چلے جائیں گے بالآخر ایک دن افریقی ممالک جیسی حالت ہو جائے گی۔‘

نمائش چورنگی اور نیٹی جیٹی پل پر دھرنوں میں اکثریت پشتون نوجوانوں کی نظر آئی جبکہ خواتین کی تعداد تحریک انصاف کے روایتی احتجاجوں سے کم تھی۔

نمائش چورنگی سے ٹاور تک ایم اے جناح روڈ پر کئی تجارتی مراکز اور ہول سیل مارکیٹیں ہیں، جن کے باہر موجود دکاندار اس کشمکش میں مبتلا رہے کہ کاروبار کھولا جائے یا نہیں۔ جامعہ کلاتھ اور بولٹن مارکیٹ میں کچھ دکانداروں نے کاروبار کھولا لیکن خریدار لاپتہ تھے۔

بولٹن مارکیٹ میں کامران نامی کپڑے کے ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ وہ دکانیں کھولنا تو چاہ رہے ہیں لیکن کھول نہیں پا رہے۔ صبح کو جب کچھ دکانیں کھلیں تو کچھ لڑکے آئے اور کہا کہ کاروبار بند کرو۔ یہ کون تھے، وہ کسی کا نام نہیں لے سکتے۔

بولٹن مارکیٹ، پلاسٹک مارکیٹ سمیت کئی مارکیٹیں سنہ 2009 میں عاشورہ کے جلوس میں بم دھماکے کے بعد نذر آتش کردی گئی تھیں، جس کے بعد دکاندار محتاط نظر آتے ہیں، ان مارکیٹوں کے سامنے ہی پولیس تھانہ بھی موجود ہے۔

دکاندر محمد حنیف کا کہنا ہے کہ تھانہ سامنے ہے لیکن وہاں سے انھیں ایسا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے کہ ان کے آسرے پر کاروبار کھولیں یا بند کرلیں۔ ویسے بھی وہ ہڑتالوں میں رسک نہیں لیتے۔

’کراچی میں بڑے عرصے سے ہڑتالیں دیکھ رہے ہیں لیکن اس کا حاصل تو کچھ نہیں، الٹا نقصان بہت دیکھا ہے، صبح کو جب گھر سے نکلے تو یہ یقین نہیں تھا کہ دکانیں بند ہوں گی لیکن جب یہاں آئے تو ساری مارکیٹیں بند ہیں۔‘

Image caption منصور احمد کا خیال ہے کہ عمران خان تبدیلی لے کر آ رہے ہیں اور اگر انھوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا تو تبدیلی آنا ممکن نہیں

تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ شہر میں 40 مقامات پر دھرنے دیے گئے ہیں، بولٹن مارکیٹ سے کچھ فاصلے پر نیٹی جیٹی پل پر بھی تحریک انصاف کا دھرنا جاری تھا، اسی سڑک سے کراچی بندرگاہ سے اندرون ملک سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے لیکن وہ بھی معطل رہی۔

دو کروڑ آْبادی کے اس شہر میں احتجاجی دھرنوں میں دوپہر تک کراچی کے شہریوں کی بڑی تعداد تو نظر نہیں آئی، تاہم تحریک انصاف معمولاتِ زندگی اور تجارتی سرگرمیاں مفلوج بنانے میں ضرور کامیاب ہوئی ہے۔

تحریک انصاف کی جانب حکومت سندھ کا مثبت اور دوستانہ رویہ بھی دیکھا گیا، صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام کا کہنا ہے کہ جبری کاروبار بند کرانا درست نہیں حکومت کی پوری کوشش ہے کہ فیصل آباد جیسے کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

اسی بارے میں