’مذاکرات میں خلوص نیت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption ’مذاکرات کی تفصیل منظر عام پر حتمی فیصلہ ہونے پر لائی جائیں گی‘

حکومت کی جانب سے تحریکِ انصاف سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حکومت ’خلوص نیت‘ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

جمعے کو تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا اور اسی سلسلے میں اتوار کو دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی۔

اس ملاقات میں اسحاق ڈار اور احسن اقبال اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اور اسد عمر شامل تھے اور فریقین نے ایک دوسرے کو اپنے اپنے مطالبات سے آگاہ کیا۔

ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسحاق ڈار نے کہا کہ برف پگھل چکی ہے اور حکومت خلوصِ نیت سے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ مذاکرات کی تفصیل اُس وقت تک منظر عام پر نہیں لائی جائیں گی جب تک حتمی فیصلہ سامنے نہ آئے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بات کا چیت کا اگلا دور آئندہ منگل ہو گا۔

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ بات چیت میں پیش رفت سے مسائل حل ہوں گے۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ’پہلے سے کئی باتیں طے شدہ ہیں۔ مجھے امید ہے کہ منگل کو ہونے والے بات چیت میں دونوں جماعتیں مثبت طریقے سے پیش رفت کریں تو امید ہے کہ قوم کے لیے حل نکل سکتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ منگل کو ہونے والے مذاکرت میں پیش رفت ہونے پر 18 دسمبر کو پاکستان بند کر دینے کی کال میں تاخیر بھی کی جا سکتی ہے۔

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکراتی ایک ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف نے اپنے ’پلان سی‘ کے تحت احتجاجاً مختلف شہروں کو بند کر دینے کے حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کر رکھا ہے اسی سلسلے میں پیر کو لاہور میں تقریباً 25 مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے اور ٹریفک بند کی جائے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکیستان مسلم لیگ نواز نے اپنے کارکنوں کو پر امن رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اُن کا احتجاج ہمشہ کی طرح پرامن ہو گا۔

لاہور سے منتخب ہونے والے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شفقت محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 18 سے 25 مقامات پر ٹریفک بند کی جائے اور دھرنے دیےجائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’کسی پر دباؤ نہیں ہے کہ وہ دکانیں بند کرے جو سمھجتے ہیں کہ پاکستان میں تبدیلی کی ضرورت ہے اُن سے درخواست ہے کہ دکانیں بند رکھیں۔‘

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ کراچی کی طرح لاہور کا احتجاج پرامن ہو گا لیکن اگر دھرنوں میں خلل ڈالنے کی کوششیں کی گی تو حالات خراب ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ’اگر یہ اپنے گلوؤں سے حملہ کریں گے تو حالات خراب ہوں گے اور اگر پُرامن رہیں گے تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز نے اپنے ورکروں کو پرامن رہنے کی ہدایت دی ہے۔

انھوں نے کہا ’ہماری قیادت نے اپنے ورکروں کو سختی سے کہا ہے کہ کسی صورت میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہونا چاہیے اور ہم پی ٹی آئی سے بھی یہی درخواست کرتے ہیں‘

حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ پیر کو لاہور میں تعلیمی ادارے دفاتر کھلیں رہیں گے اور ٹرانسپورٹ اور میٹرو بس معمول کے مطابق چلتی رہے گی۔

پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں دھاندلی کے خلاف رواں سال اگست سے اجتحاج اور دھرنے شروع کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں