بھگت سنگھ نصاب کا حصہ نہیں لیکن آبائی مکان ثقافتی اثاثہ

Image caption بھگت سنگھ برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت ہیں جنھیں 24 برس کی عمر میں ایک انگریز پولیس افسر کے قتل پر لاہور میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر فیصل آباد سے جڑانوالہ جاتے ہوئے مرکزی سڑک کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ’بنگہ‘ ہے۔

یہ گاؤں دیکھنے میں بالکل پنجاب کے عام دیہاتوں کی طرح ہے جہاں کچھ کچے پکے مکان اور چھوٹی چھوٹی گلیاں ہیں۔

تاہم بہت کم افراد جانتے ہیں کہ اس کا ایک اہم تاریخی حوالہ بھی ہے۔ بنگہ بھگت سنگھ کا آبائی گاؤں اور ان کی جائے پیدائش ہے۔

بھگت سنگھ برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت ہیں جنھیں 24 برس کی عمر میں ایک انگریز پولیس افسر کے قتل پر لاہور میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔

بھگت سنگھ ایک سکھ گھرانے کے چشم و چراغ تھے لیکن انھیں مذہب سے کچھ خاص لگاؤ نہیں تھا۔ انھیں اگر عشق تھا تو اپنی دھرتی سے۔ جب بھگت سنگھ نے جدوجہد کی اس وقت پاکستان کا تصور موجود نہیں تھا۔

تقسیم ہند کے بعد بھگت کو بھارت میں تو تحریک آزادی کے ہیرو کے طور پر نمایاں شناخت ملی۔ لیکن پاکستان میں ان کی شخصیت ماضی میں کچھ حد تک متنازع رہی ہے۔

بنگہ میں اس پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر حفیظ اللہ حفیظ جہاں بھگت نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی کہتے ہیں ’ہمارے گاؤں میں کچھ عرصہ پہلے تک بھگت کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا۔ یہ تو سنہ 1980 اور 1990 کی دہائی میں یہاں سکھوں کے وفد آنے شروع ہوئے تو ہمیں پتہ چلا کہ بھگت کون تھے اور یہ کہ ان کا تعلق ہمارے گاؤں سے ہے۔‘

لیکن اب فیصل آباد کی ضلعی حکومت نے بھگت سنگھ کی جنم بھومی اور ان کے سکول کو ثقافتی اثاثہ قرار دیا ہے اور ان کے گاؤں کو ماڈل ویلج بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جڑانوالہ کے اسسٹنٹ کمشنر محمد ظہیر کہتے ہیں ’ماڈل ویلج کا مطلب ہے یہاں سڑکوں اور سیوریج کا نظام بہتر ہو جائِے گا۔ یہاں ایک ہیلتھ یونٹ بن جائے گا اور لائیوسٹاک کا دفتر قائم کر دیا جائے گا۔ اب تک اس منصوبے پر ایک کروڑ روپیہ خرچ ہو چکا ہے اور اگر ضرورت ہوئی تو اگلے بجٹ میں ہم اس کے لیے مزید فنڈ بھی رکھیں گے۔‘

بنگہ کے پرائمری سکول کی نئی عمارت بن چکی ہے۔ لیکن سکول کے احاطے میں پرانی طرز کا ایک برآمدہ ہے اور اس کے ساتھ دو کمرے متصل ہیں۔ یہ وہ سکول ہے جہاں بھگت نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

ایک کمرے کی چھت گر چکی ہے، کلاس میں ابھی بھی پرانا بلیک بورڈ آویزاں ہے۔

Image caption ’سکول کی دیواریں جیسی پہلے تھیں ویسی ہی مرمت کر دی گئی ہیں۔ چھت جیسی پہلے تھی ویسے ہی ڈالی جا رہی ہے۔‘

اب اس سکول کی بالکل اسی طرح مرمت کی جا رہی ہے جس طرح اسے ایک صدی پہلے تعمیر کیا گیا تھا اور اس مقصد کے لیے محکمۂ آثار قدیمہ کی تربیت یافتہ لیبر کی خدمات لی گئی ہیں۔

ٹھیکےدار ذوالفقار علی گوندل نے بتایا ’سکول کی دیواریں جیسی پہلے تھیں ویسی ہی مرمت کر دی گئی ہیں۔ چھت جیسی پہلے تھی ویسے ہی ڈالی جا رہی ہے۔ کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ چنائی اور فرش بھی پرانے ہیں اور کسی چیز کو نیا کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔‘

سکول سے کچھ فاصلے پر بھگت سنگھ کا مکان ہے جہاں وہ پیدا ہوئے۔ یہ مکان اب ایک بڑے حویلی نما مکان کا حصہ ہے۔ مکان مقامی خاندان کے زیرِ استعمال ہے۔ تاہم وہ دو کمرے جہاں بھگت کی خاندان کی رہائش تھی اسے محفوظ کیا جا رہا ہے۔

Image caption صحن کے ایک کونے میں سیاہ تختی لگی ہے جس پر لکھا ہے کہ ’یہ مکان بھگت کی جائے پیدائش ہے‘

اس مکان کے صحن میں بیر کا درخت ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے درخت بھی بھگت کے زمانے کا ہے۔ صحن کے ایک کونے میں سیاہ تختی لگی ہے جس پر لکھا ہے کہ ’یہ مکان بھگت کی جائے پیدائش ہے‘۔

بحالی کے اس منصوبے کی وجہ سے بھی اب گاؤں کے لوگ بھگت سے متعارف ہو چکے ہیں۔ لیکن کیا گاؤں کے بچے بھگت کی جدوجہد کے بارے میں جانتے ہیں؟

پرائمری سکول کے ہیڈماسٹر حفیظ اللہ حفیظ نے بتایا ’بچوں کو تو صرف ان باتوں کا پتہ ہوتا ہے جو انھیں سکول میں پڑھائی جاتی ہیں۔ اور ہمارے نصاب میں تحریک آزادی کے ہیروز میں بھگت کا تذکرہ موجود نہیں ہے۔ اس لیے بچوں کو بھگت سنگھ کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں۔‘

بھگت سنگھ نصاب کا حصہ تو نہیں پھر اچانک فیصل آباد کی ضلعی حکومت کو بھگت کی ملکیت لینے کا خیال کیسے آیا؟

Image caption میں نے اس منصوبے کو تقافتی منصوبے کے طور پر لیا ہے۔ بھگت ایک شخصیت ہیں: ڈی سی او نورالامین

یہ سوال میں نے ڈی سی او نورالامین سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا’میں نے اس منصوبے کو ثقافتی منصوبے کے طور پر لیا ہے۔ بھگت ایک شخصیت ہیں۔ بنگہ کے لوگ ان کی ملکیت واپس لینا چاہتے ہیں۔ اس لیے تاریخی مقامات کی بحالی کے ایک بڑے منصوبے کے تحت بھگت سنگھ کے گاؤں کو بھی خصوصی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ قدم میں نے فیصل آباد کے بہترین مفاد میں اٹھایا ہے۔ اس سے یہاں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور پاکستان کا ایک اچھا تاثر بھی ابھرے گا۔‘

ماضی میں جب لاہور میں شادمان کے اس چوک کو جہاں بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی ان کے نام سے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی تو ضلعی حکومت کو احتجاج کا سامنا کرنا پڑا اور یہ معاملہ اب بھی عدالت میں زیرِسماعت ہے۔

ڈی سی او فیصل آباد کا کہنا ہے کہ بنگہ کو خصوصی حیثیت دینے کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اب تک اس منصوبے کی مخالفت کی گئی ہے۔

اسی بارے میں