این اے 122: ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جن چار حلقوں کو کھولنے اور ان کی دوبارہ گنتی کروانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اس میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 122 بھی شامل ہے جہاں سے قومی اسمبلی کے سپیکیر ایاز صادق کامیاب قرار پائے تھے

لاہور ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی جانب سے الیکشن ٹریبیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس کی ابتدائی سماعت منگل کو ہو گی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج اعجاز الاحسن نے منگل کو اس درخواست کی ابتدائی سماعت کریں گے جس میں اس درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل الیکشن ٹریبیونل نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122 میں ڈالے گئے ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی حلقے سے مسلم لیگ نون کے رہنما ایاز صادق کامیاب قرار پائے تھے۔

الیکشن ٹریبیونل نے اس ضمن میں ایک کمیشن بھی تشکیل دیا تھا جسے 15 روز میں اپنی رپورٹ ٹریبیونل میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹریبیونل نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے الیکشن ٹریبیونل میں دائر کی گئی درخواست پر ایاز صادق کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو سُنے بغیر ہی یکطرفہ طور پر ووٹوں کی گنتی کا حکم جاری کر دیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹریبیونل نے نہ صرف ان کے موقف کو نہیں سنا بلکہ الیکشن ٹریبیونل نے اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست پر کوئی اعتراضات ہوں تو جج کو درخواست سے متعلق فیصلہ دینے سے پہلے اعتراضات کے بارے میں فیصلہ دینا ہوگا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الیکشن ٹریبیونل کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم صادر کرنا عوامی نمائندگی ایکٹ کی بھی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جن چار حلقوں کو کھولنے اور ان کی دوبارہ گنتی کروانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے اس میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 122 بھی شامل ہے جہاں سے قومی اسمبلی کے سپیکیر ایاز صادق کامیاب قرار پائے تھے۔

ایاز صادق سنہ 2002 کے انتخابات میں بھی عمران خان کو اسی حلقے سے شکست دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں