عمران خان کا احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ملک میں سکیورٹی کی موجودہ صورت حال کے پیش ِنظر تقریباً چار ماہ سے اسلام آباد میں جاری احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے بدھ کو پشاور میں منعقدہ کل جماعتی کانفرس میں شرکت کے بعد اسلام آباد کے ڈی چوک میں اپنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں وزیراعظم نواز شریف کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انھوں نے کہا ’اگرچہ میں وزیراعظم کی جانب سے بلوائی جانے والی کانفرنس میں حکومتی رویے کی وجہ سے شرکت نہیں کرنا چاہتا تھا تاہم میں نے ملک کی خاطر اس کانفرنس میں شرکت کی۔‘

عمران خان نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا’ کور کمانڈر پشاور نے ہمیں بتایا کہ کیا حالات ہیں، جو دہشت گردی ہوئی ہے اس میں سرحد سے باہر سے بھی فورسز بھی ملوث ہیں ہم نے بات چیت کی کہ ان حالات میں ہم کیا کریں، ملک کی یہ ضرورت ہے کہ ساری قوم اکھٹی ہو، اور کیا اس وقت میں ہم اپوزیشن کریں اور دھرنے میں بیٹھے رہیں، میں اس نتیجے میں آیا کہ جو آج پاکستان کے حالات ہیں ہمیں دھرنا ختم کرنا پڑے گا۔‘

عمران خان نے پشاور حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان کا نام لیے بغیر کہا ’اس وقت کا تقاضا ہے کہ ملک اکھٹا ہو اور جنھوں نے بھی یہ کیا ہے ان کا مل کر مقابلہ کریں۔‘

عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے موقف کو دوہرایا کہ وہ سال 2013 میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے پر قائم ہیں اور اگر نواز شریف تحقیقات کے وعدے سے پیچھے ہٹے تو پھر دوبارہ احتجاج کیا جائے گا۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے تحقیقات کے لیے جلد عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے اور اس ضمن میں جلد مذاکرات کیے جائیں۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف نے اگست میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا شروع کیا تھا اور اس کے بعد رواں ماہ سے اپنے ’پلان سی‘ کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے۔

عمران خان نے اس ضمن میں 18 دسمبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی تھی تاہم منگل کو پشاور میں شدت پسندی کے واقعے کے بعد تحریک انصاف نے ملک گیر احتجاج کی کال واپس لے لی تھی۔