کون کہاں مر رہا ہے، کسے خبر؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طالبان کا مقصد اپنے دشمن یعنی پاکستانی فوج کے مستقبل پر کاری ضرب لگانا تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے

پاکستانی کئی برسوں سے جاری دہشت گردی اور اس کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں شدت پسندی کے واقعات سے نمٹتے نمٹتے سخت جان ہوگئے ہیں۔

اس کے باوجود پشاور میں 130 سے زیادہ بچوں کے قتلِ عام نے قوم کی کمر توڑ دی ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’انہوں نے قوم کے دل پر وار کیا ہے‘۔وہ ایسا کہنے میں اکیلے نہیں۔ جسے دیکھیں اپنا ٹوٹے دل کو سنبھالنے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے۔

ہر جانب ایک دکھ، تکلیف اور غیر یقینی کا عالم ہے۔ سڑک، بازار، کیفے، بیوٹی پارلر، ہر جگہ لوگ اپنی روایتی گپ شپ کی بجائے اس واقعے پر نوحہ کناں نظر آتے ہیں۔

لندن کی سردی سے بھاگ کر میں کچھ روز پہلے ہی پاکستان پہنچی۔

اسلام آباد میں یہ موسم ثقافتی تقاریب کا موسم سمجھا جاتا ہے اور یہاں سردیوں کی دھوپ بذات خود ایک ٹوئرسٹ اٹریکشن ہوتی ہے لیکن 16 دسمبر کی برفیلی بربریت نے جیسے دلوں پر کہرا جما دیا۔

اسلام آباد میں مارکیٹیں احتجاجاً بند رہیں، کئی فنکشن اور کئی میلے منسوخ ہوئے اور شہر بھر میں لوگ گزر جانے والوں کے غم میں شمعیں روشن کرتے نظر آئے۔

پرتشدد شدت پسندی پاکستان کے لیے نئی نہیں۔ دہشت گردی کے کئی واقعات میں اس سے بھی زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں عام شہری اور بچے تک اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

دوسری جانب کئی فوجی آپریشنز ہو چکے ہیں جن میں فوجیوں اور بچوں سمیت عام شہریوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔

کئی برس عالم جنگ میں رہنے کی وجہ سے پاکستان میں تشدد کے لیے بہت برداشت پیدا ہو چکی ہے۔ یہاں اکثر عام شہری قتل ہوتے ہیں، کبھی عزت کے نام پر اور کبھی مذہب کے نام پر۔

فرزانہ کو اس کے رشتہ داروں نے لاہور ہائی کورٹ کے باہر سنگسار کیا اور ایک مسیحی جوڑے کو ایک ہجوم نے کوٹ رادھا کشن میں زندہ جلا دیا۔ ایسی بہت سی مثالیں اور بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption بڑی تعداد میں لوگ گزر جانے والوں کے غم میں شمعیں روشن کرتے نظر آئے

اسی طرح ڈرون حملوں میں ہلاک ہو نے والوں کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ آٹھ سال قبل باجوڑ میں ایک مدرسے پر ڈرون حملے میں 80 کے قریب لوگ ہلاک ہو ئے تھے۔ طالبان کہتے ہیں ان میں اکثریت بچوں کی تھی۔

لندن میں قائم ایک غیر سرکاری ادارہ بیورو آف انویسٹیگیٹو جرنلزم ڈرون حملوں اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تفصیلات جمع کرتا ہے۔ اس کے مطابق باجوڑ کے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سب سے کم سن بچے کا نام سہیل تھا جس کی عمر صرف سات برس تھی۔

پشاور حملے نے پاکستانیوں کی روح کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو طالبان کا خصوصی طور پر بچوں کو نشانہ بنانا تھا۔ اور دوسری ان کی اپنے اس وحشتناک عمل کو کامیابی کے ساتھ مقامی اور عالمی میڈیا کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچانا تھا۔

لیکن اس کا حقیقی اثر کیا ہوا؟

مجھے کئی سال پہلے کا میرا ملک ناروے یاد آتا ہے جہاں میں پلی بڑھی ہوں۔ تین برس قبل ناروجین آنرژ بریویک نے اسلحے سے لیس ہو کر لیبر پارٹی کے نوجوانوں کے کیمپ پر حملہ کیا۔ اسے اسلام اور امیگریشن سے نفرت تھی۔

اس واقعے نے نارویجن معاشرے کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور دائیں بازو کی شدت پسندی کے ایک ایسے رخ سے پردہ اٹھایا جسے کافی عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا تھا۔

بریویک نے خاص طور پر بچوں کو نشانہ کیوں بنایا؟ اس لیے کہ نوجوان مستقبل کی کلید ہوتے ہیں اور ان کا قتل مستقبل کی جڑیں اکھاڑنے کے مترادف ہوتا ہے۔

پاکستان ناروے نہ سہی لیکن پشاور حملے کے محرکات بھی اس سے مختلف نہ تھے۔

اس سے قبل کراچی کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد طالبان نے کہا تھا کہ ’ہم نے ابھی سینکڑوں قبائلی خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں کا بدلہ لینا ہے جو پاکستان کے فضائی حملوں کا نشانہ بنے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فوج کا دعویٰ ہے کہ ضربِ عضب کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن کسی بھی سطح پر ان کی شناخت کو عام نہیں کیا گیا

طالبان کا مقصد اپنے دشمن یعنی پاکستانی فوج کے مستقبل پر کاری ضرب لگانا تھا۔ یوں یہ نا صرف ایک حقیقی حملہ تھا بلکہ ایک گہرا نفسیاتی حملہ بھی تھا جو اپنے پیچھے ایک انتہائی پر تشدد سوچ اور ماحول چھوڑ گیا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نے دہشت گردی کے کیسز میں سزائے موت پر کئی برس پرانی پابندی ہٹا دینے کی منظوری دی۔ حملے کے 48 گھنٹوں کے اندر پاکستانی جیٹ طیاروں نے قبائلی علاقوں میں تیس سے زائد حملوں میں پچاس سے زیادہ طالبان ہلاک کرنے کا دعوہ کیا۔

لیکن پاکستانی ماحول میں بڑھتی ہوئی پرتشدد کاروائیاں جہاں دہشت گردوں کے لیے ایک کڑا پیغام ہیں وہیں یہ احتساب اور شفافیت کو نظر انداز بھی کرتی ہیں جس کی پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی مشینری کو اشد ضرورت ہے۔

فوج کا دعویٰ ہے کہ ضربِ عضب کے نتیجے میں ایک ہزار سے زیادہ دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں لیکن کسی بھی سطح پر ان کی شناخت کو عام نہیں کیا گیا۔ پشاور کے برعکس پاکستانی میڈیا کو قبائلی علاقوں تک رسائی حاصل نہیں اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔

اس صورتحال میں کیا ہم کوئی بھی متوازن تجزیہ کر سکتے ہیں؟

ضربِ عضب پاکستان کی سکیورٹی پالیسی میں ایک تبدیلی کا سنگِ میل تھا جب اس نے فضائی حملوں اور پھر شمالی وزیرستان میں زمین کارروائی کے ذریعے طالبان کے ٹھلانے تباہ کیے۔ ایک جانب تو 30 ہزار فوجی قبائلی علاقوں میں تعینات ہوئے تو دوسری جانب ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

اکتوبر میں وزیرِ خزانہ نے اعلان کیا کہ اس فوجی آپریشن پر 2 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں تاہم مقامی یا عالمی میڈیا میں اس آپریشن کے اثرات کے بارے میں شازونادر ہی کچھ کہا گیا ہے۔

غم و اندوہ تلے دبی پاکستانی قوم شاید اس وقت اس بڑھتے ہوئے پرتشدد ماحول کے اصل خطرات کو نہ بھانپ پائے لیکن پاکستانی پالیسی سازوں پر فرض ہے کہ وہ اس وحشیانہ جنگ کے دونوں رخ شفافیت کے ساتھ سامنے لائے تاکہ غم سے نڈھال اس قوم کو مزید تشدد سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اسی بارے میں