’ناکامیاں تسلیم کر کے آگے بڑھنے کا وقت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس طرح کے ہر واقعے کے بعد طرح طرح کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ حکومت ذمہ دار ہے، فوج ذمہ دار ہے یا پھر اس میں پاکستان کے دشمنوں کا ہاتھ ہے وغیرہ وغیرہ

پشاور کے سانحے پر پورا ملک سوگوار ہے۔ اس اندوہناک واقعے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

خون میں لت پت کتابوں، بچوں کے جوتوں اور ان کی سکول یونیفارم کے مناظر نے پاکستان کیا پوری دنیا میں والدین کے دلوں کو ہلا کر رکھا دیا ہے۔

دنیا میں شاید ہی کوئی اخبار یا جریدہ ایسا ہو جس میں اس المناک واقع کی خبر نمایاں طور پر شائع نہ کی ہو۔ لندن میں تمام اخباروں نے ان معصوم بچوں کی تصاویر شائع کی ہیں جو ان درندوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔

اس طرح کے ہر واقعے کے بعد طرح طرح کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں کہ حکومت ذمہ دار ہے، فوج ذمہ دار ہے یا پھر اس میں پاکستان کے دشمنوں کا ہاتھ ہے وغیرہ وغیرہ۔

پاکستان میں مئی سنہ 2013 میں ہونے والے انتخابات میں طالبان سے معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی حامی جماعت نے کامیابی حاصل کی جبکہ طالبان کو ہمدرد اور ڈرون حملوں کے پس منظر میں بڑی حد تک مظلوم سمجھنے والی جماعت حزب اختلاف کی بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔

طالبان کو ظالم اور آفریت قرار دینے والی جماعتوں کا سیاسی منظر نامے سے تقریباً صفایا ہو گیا۔

پاکستان کی یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں جنھیں عوام نے ہی ووٹ ڈالے دہشت گردی کے ہر بڑے واقعے کے بعد طالبان کا نام لے کر ان کی مذمت کرنے سے بھی کتراتی رہیں۔ یہاں تک کہ اس واقعے کے بعد بھی بے شمار مذمتی بیانات میں تحریک طالبان پاکستان کا نام لے کر ان کی کبھی مذمت نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منگل کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ہونے والے خود کش دھماکے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد ہلاک ہوئے تھے

مذاکرات کی حامی حکومت جس کے پاس ہر مسئلہ کا حل کمیٹی بنا دینا یا آل پارٹیز کانفرنس بلا لینے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ آج بھی معاملے کی پیچیدگی اوراس کی گہرائی سے بلکل نابلد نظر آتی ہے۔

رواں برس جون میں ضرب عضب کے نام سے بڑی فوجی کارروائی شروع کی گئی جس کے لیے دنیا گزشتہ تقریباً پانچ برس سے چلا رہی تھی۔

یہ فوجی کارروائی کن حالات میں شروع کی گئی اس کی تفصیل طویل ہو جائے گی لیکن اس کے شروع کیے جانے کے بعد سے ہر ذی ہوش شخص کو نظر آ رہا تھا کہ اس کا ’بیک لیش‘ یا ردعمل ہو گا اور شدید ہو گا۔

اس نازک صورت حال میں ملک میں سیاسی کشمکش، دھرنے، جلسے، جلوس اور ریلیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وفاقی حکومت سیاسی حل نکالنے میں بری طرح ناکام ہوئی اور صوبائی حکومت کی پوری توجہ اسلام آباد کے دھرنوں میں لگ گئی۔

اسی دوران واہگہ باڈر پر خودکش حملہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے کسی شخص کو یہ خیال نہیں آتا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ صرف شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنے سے حل نہیں ہو گا اور اس کی جڑیں بڑی دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

موجود سیاسی قیادت کی کوتاہ نظری اور نااہلی اور اس قیادت کو چننے والے عوام کی رائے ایک طرف لیکن سولہ دسمبر کو ’آرمی پبلک سکول‘ کو نشانہ بنائے جانے کی علامتی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جس ملک میں ابھی تک یہ ابہام پایا جاتا ہو کہ کیا کارگل کی کارروائی سے پہلے سیاسی قیادت سے باقاعدہ اجازت بھی لی گئی تھی کہ نہیں وہاں سیاسی قیادت کو موردِ الزام ٹھہرانا کس حد تک درست ہو گا

پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خاص طور پر افغانستان سے تعلقات، شدت پسندوں تنظیموں کے بارے میں پالیسی یہ وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں سیاسی قیادت سے سوالات کرنا شاید درست نہ ہو۔

یہ وہ معاملات ہیں جن کے بارے میں سیاسی قیادت کی معلومات شاید اخبارت میں شائع ہونے والی خبروں اور تجزیوں تک ہی محدود ہو۔

فوجی ماہرین جو ٹی وی چینلوں پر بیٹھ پر کہتے ہیں کہ فوج کارروائیاں کر کے ’سپیس‘ تو بنا سکتی ہے لیکن اس ’سپیس‘ کو انتظامی اور قانونی اقدامات سے بھرنا سیاسی قیادت کا کام ہے۔

ان فوجی تجزیہ کاروں سے کیا یہ سوال نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کیا کبھی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی قیادت کو اس قابل سمجھا کہ انھیں حساس نوعیت کے معاملات میں اعتماد میں لیا جائے۔

جس ملک میں ابھی تک یہ ابہام پایا جاتا ہو کہ کیا کارگل کی کارروائی سے پہلے سیاسی قیادت سے باقاعدہ اجازت بھی لی گئی تھی کہ نہیں وہاں سیاسی قیادت کو موردِ الزام ٹھہرانا کس حد تک درست ہو گا۔

پشاور میں بچوں کے قتل عام کے بعد تمام اداروں اور اقتدار اور اختیار رکھنے والے تمام لوگوں کو اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کو تسلیم کر کے آگے کا لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔

جب تک یہ نہیں ہوگا اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ بقول محمد حنیف کے ان بچوں کی مغفرت کی دعا کے لیے ہاتھ بلند کرتے وقت اپنے ہاتھوں پر لگے خون کو دیکھنا ہوگا۔

اسی بارے میں