’اگلے ہفتے معاہدہ نہ بھی ہوا تو اچھی خبر ضرور دیں گے‘

Image caption ’حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں جو بھی خلا ہے وہ آئندہ ہفتے ختم کردیا جائےگا‘

پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ ہفتے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جاری مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان جمعے کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور اس حوالے سے ممبران نے میڈیا کو بھی آگاہ کیا۔

پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومتی اراکین سے مثبت بات چیت ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ماضی میں جو امور طے ہوئے تھے ان پر اتفاق ہوا ہے اور ’ٹرمز اور ریفرنس‘ پر خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔

’دونوں جانب کوشش ہے کہ بات چیت کو آگے بڑھایا جائے، مجھے امید ہے کہ ملک کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اسے حتمی نتیجے پر پہنچائیں۔‘

شاہ محمود قریشی نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ ہفتے حکومت اور پی ٹی آئی اگر معاہدے کے قریب نہ بھی پہنچیں تو اچھی خبر ضرور دیں گے۔

حکومتی کمیٹی کے سربراہ اسحاق ڈار نے بھی شاہ محمود قریشی کی تائید کی اور کہا کہ جو بھی خلا ہے اسے اگلے ہفتے ختم کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر انھوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پی ٹی آئی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں بھی شرکت کرے گی۔

پارلیمنیٹ میں واپسی کے حوالے سے کیے جانے والے سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے رہنما جہانگیرترین کا کہنا تھا کہ عمران خان وضاحت کر چکے ہیں کہ جب جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آجائے گا تب اگلے قدم کا فیصلہ کیا جائے گا۔

جوڈیشل کمیشن میں عمران خان کی جانب سے آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اراکین کی شمولیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کی صوابدید ہے وہ جسے چاہے بلائے۔

یاد رہے کہ17 دسمبر کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ملک میں سکیورٹی کی موجودہ صورت حال کے پیش ِنظر تقریباً چار ماہ سے اسلام آباد میں جاری احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے بدھ کو پشاور میں منعقدہ کل جماعتی کانفرس میں شرکت کے بعد اسلام آباد کے ڈی چوک میں اپنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم کیا کریں، ملک کی یہ ضرورت ہے کہ ساری قوم اکھٹی ہو، اور کیا اس وقت میں ہم اپوزیشن کریں اور دھرنے میں بیٹھے رہیں، میں اس نتیجے میں آیا کہ جو آج پاکستان کے حالات ہیں ہمیں دھرنا ختم کرنا پڑے گا۔‘

اسی بارے میں