ممبئی حملہ: ذکی الرحمان لکھوی کی درخواستِ ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممبئی میں چھ برس قبل انتہائی مربوط حملوں میں 150 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ممبئی حملہ کیس کے مرکزی ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی ہے۔

عدالت نے ضمانت کے لیے ملزم کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

یہ فیصلہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج کوثر عباس زیدی نے جمعرات کو درخواستِ ضمانت پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد دیا۔

ذکی الرحمان اس مقدمے کے پہلے ملزم ہیں جن کی ضمانت منظور ہوئی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست گزار کے وکیل رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمے کو چھ سال کا عرصہ بیت گیا ہے اور اس دوران استغاثہ ایسا کوئی بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کر سکا جس سے ان کے موکل کو مجرم گردانا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ اگر اتنے عرصے میں بھی کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے تو ان کے موکل کا بنیادی حق ہے کہ اسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔

استغاثہ نے ضمانت کی منظوری کے فیصلے کو چیلینج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری وکیل چوہدری اظہر کے مطابق اس مقدمے اس مرحلے پر پہنچ چکا ہے کہ شہادتیں قلمبند ہو رہی ہیں اور ان کے بقول بہت سے ایسے شواہد عدالت میں پیش کیے گئے ہیں جن میں ملزم کے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے ثبوت موجود ہیں۔

تاہم عدالت نے وکیلِ استغاثہ کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور ضمانت منظور کر لی۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے اس مقدمے میں ذکی الرحمان لکھوی سمیت سات ملزمان پر فرد جُرم عائد کی جا چکی ہے اور یہ تمام ملزمان راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

26 نومبر 2008 کو شدت پسندوں نے ممبئی کے کئی مقامات پر ایک ساتھ حملہ کیا تھا اور اس انتہائی مربوط حملوں میں 150 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں بہت سے غیرملکی بھی تھے۔

خیال رہے کہ جہاں بھارت میں اس واقعے کے مرکزی ملزم اجمل قصاب کو 2012 میں سزائے موت دی جا چکی ہے وہیں پاکستان میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زیرِ حراست ملزمان کو قانونِ شہادت میں تبدیلی کیے بغیر سزا دلوانا ممکن نہیں۔

اسی بارے میں