زیارت سے سات افراد کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ ہفتۂ رواں میں بلوچستان سے ایسی لاشیں ملنے کا دوسرا واقعہ ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع زیارت سے سات افراد کی لاشیں بر آمد ہوئی ہیں جنھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

زیارت کی مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ لاشیں جمعے کو سنجاوی کے علاقے سے ملی ہیں اور ان کی حالت سے لگتا ہے کہ ان افراد کی ہلاکت کو زیادہ وقت نہیں گزرا۔

انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں لاشوں کی موجودگی کی اطلاع پر حکام جائے وقوع پر پہنچے اور انھیں مقامی ہسپتال منتقل کر دیا۔

تاحال ان ساتوں افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

یہ ہفتۂ رواں میں بلوچستان سے ایسی لاشیں ملنے کا دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو قلعہ سیف اللہ کے علاقے سے ایسی تین لاشیں ملی تھیں جنھیں سر میں گولیاں مار کر ہلاک کرنے کے بعد ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا۔

ان تینوں افراد کے جسموں پر تشدد کے نشانات بھی تھے۔

بلوچستان سے مسخ شدہ اور تشدد زدہ لاشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ سنہ 2008 میں شروع ہوا تھا۔

قوم پرست اور علیحدگی پسند ان واقعات کے لیے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں تاہم اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اس الزام کی تردید کی جاتی ہے۔

بلوچستان کی موجودہ حکومت کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ اب ایسے واقعات میں کمی آئی ہے ۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ذرائع کے مطابق اس سال کے دوران اب تک 150 سے زائد افراد کی لاشیں بر آمد ہوئی ہیں۔

تاہم لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کا دعوی ٰہے کہ اس سال کے دوران برآمد ہونے والی لاشوں کی تعداد 500 کے لگ بھگ ہے۔

اسی بارے میں