بلوچستان سے آٹھ افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے تشدد شدہ لاشیں ملنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دو اضلاع سے آٹھ افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

اتوار کو پانچ افراد کی لاشیں کوئٹہ شہر کے شمال میں واقع ضلع پشین کے دو مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔

پشین میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تین افراد کی لاشیں ضلع کے علاقے ہیکلزئی جبکہ دو افراد کی لاشیں خانوزئی کے علاقے سے ملی ہیں۔

اہلکار نے بتایا کہ ہلاک کیے جانے والے پانچوں افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی ہے تاہم اہلکار کے مطابق خانوزئی سے ملنے والی لاشیں شکل و شباہت سے بلوچ جبکہ ہیکلزئی سے برآمد ہونے والی لاشیں افغان باشندوں کی معلوم ہوتی ہیں۔

تین دیگر افراد کی لاشیں کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی سے برآمد ہوئی ہیں۔

زیارت میں لیویز فورس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ان افراد کی لاشیں بغاؤ کے علاقے سے ملی ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ تینوں افراد کو سر میں گولیاں مار کر ہلاک کیاگیا ہے جن کی اگرچہ تاحال شناخت نہیں ہوئی تاہم حلیے سے تینوں افراد مقامی معلوم نہیں ہوتے ہیں۔

بلوچستان سے تین روز کے دوران تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہونے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل زیارت ہی کی تحصیل سنجاوی سے 7 افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی تھیں۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال گذشتہ کئی سالوں سے خراب ہے اور صوبے سے تشدد شدہ لاشیں ملنے کے واقعات آئے روز پیش آتے ہیں۔

صوبے میں لاپتہ افراد کا مسئلہ بھی موجود ہے اور اس کے خلاف کئی بار احتجاج ہو چکے ہیں۔ ان افراد کے اہلخانہ اور حقوق انسانی کی تنظیمں خفیہ ایجنسیوں کے ان واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی ہیں جبکہ سکیورٹی ادارے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

ادھر ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں ایک اور گیس پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکے سے گیس پائپ لائن کا کچھ حصہ تباہ ہوا ہے جس سے پلانٹ کوگیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔

ڈیرہ بگٹی میں گیس پائپ لائنوں اور دیگر تنصیبات پر زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپبلیکن آرمی قبول کرتی رہی ہے۔ ملک میں قدرتی گیس کا بحران گذشتہ کئی سالوں سے جاری ہے اور سردیوں میں گیس کی مانگ میں اضافے کے باعث اس میں مزید شدت آ جاتی ہے اور اس صورتحال میں گیس پائپ لائنز کو تباہ کرنے سےگیس سپلائی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں