مشرف حملہ کیس: مزید چار مجرموں کو پھانسی دے دی گئی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پھانسیوں پر شدت پسندوں کے ممکنہ ردعمل کے تناظر میں فیصل آباد سمیت پنجاب کی اہم جیلوں کی سکیورٹی بھی فوج کے حوالے کی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کی ڈسٹرکٹ جیل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملے میں ملوث مزید چار مجرموں کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

اس سے پہلے جمعے کی رات کو جی ایچ کیو پر حملے کے مجرم محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے مجرم ارشد محمود کو پھانسی دے دی گئی تھی اور اب تک چھ مجرمان کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

جیل حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کے دن جن مجرموں کو پھانسی دی گئی ان میں غلام سرور بھٹی، راشد محمود قریشی عرف ٹیپو، زبیر احمد اور اخلاص روسی شامل ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق غلام سرور بھٹی اور راشد محمود قریشی کو 3.25 منٹ پر جبکہ زبیر احمد اور اخلاص کو 4.25 منٹ پر پھانسی دی گئی۔

موت کی سزا پانے والے 34 سالہ اخلاص روسی شہری ہیں اور وہ سنہ 2001 میں روس سے پاکستان آئے تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جیل حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز جن چار افراد کو سزائے موت دی گئی ہے ان میں سے غلام سرور بھٹی کا تعلق ایئر فورس سے تھا جبکہ راشد محمود قریشی کے والد ایئر فورس کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور ان دونوں کو سال 2005 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

جیل حکام کے مطابق ملزمان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے بعد ان کی اپنے اہل خانہ کی آخری ملاقات بھی کروا دی گئی تھی۔

اتوار کو سزائے موت پانے والے مجرمان کو سابق صدر پرویز مشرف پر راولپنڈی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔

25 دسمبر 2003 کو ہونے والے اس حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اسی جرم میں ایک اور مجرم نائیک ارشد محمود کو فیصل آباد میں ہی جمعے کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

ارشد کے ساتھ جمعے کو ہی جی ایچ کیو پر حملے کے مجرم محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو بھی تختۂ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

ان پھانسیوں پر شدت پسندوں کے ممکنہ ردعمل کے تناظر میں فیصل آباد سمیت پنجاب کی اہم جیلوں کی سکیورٹی بھی فوج کے حوالے کی گئی ہے جبکہ جیل جانے والے تمام راستوں کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے افراد کی سزا پر عملدرآمد کا آغاز وزیرِ اعظم پاکستان کی ہدایت پر حال ہی میں ہوا ہے۔

نواز شریف نے یہ ہدایات پشاور میں طالبان شدت پسندوں کے حملے میں 132 بچوں سمیت 141 افراد کی ہلاکت کے بعد جاری کی تھیں۔

وزارتِ داخلہ نے ان احکامات کی روشنی میں 17 مجرموں کی فہرست تیار کی ہے جنھیں ابتدائی مرحلے میں پھانسی دی جائے گی۔

وزیراعظم کے اعلان کے بعد بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی کورٹ مارشل میں سزائے موت پانے والے چھ شدت پسندوں کی سزا پر عمل درآمد کی منظوری دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فوجی جوانوں نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کی چھت پر مورچے بنا لیے ہیں

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکورہ افراد کے علاوہ مزید کئی شدت پسندوں کے ڈیتھ وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں جنھیں آئندہ ہفتے کے دوران پھانسی دی جا سکتی ہے۔

ان پھانسیوں کے لیے جیل کے قواعد و ضوابط میں ترامیم بھی کی گئی ہیں۔

نئے قواعد کے تحت اب پھانسی کے لیے مقررہ وقت کے ساتھ ساتھ ہفتے میں مخصوص دنوں کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے اور اب کسی بھی دن مجرم کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل یہ عمل صرف فجر سے قبل منگل، بدھ اور جمعرات کو ہی سرانجام دیا جاتا تھا تاہم عقیل اور ارشد محمود کو جمعے کو عشاء کے وقت پھانسی دی گئی ہے۔

اسی بارے میں