طبی عملہ بھی بچوں کو دیکھ کی جذبات پر قابو نہ رکھ سکا

Image caption گذشتہ چھ سالوں میں ساڑھے بارہ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے

پشاور کے لیڈی رڈنگ ہسپتال میں تشدد کے متعدد واقعات کے زخمیوں اور ہلاک شدگان کو لایا جاتا رہا ہے، لیکن آرمی پبلک سکول کے واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو دیکھ کر اس ہسپتال کے ڈاکٹر اور نرسیں بھی رو پڑے تھے۔

ڈاکٹروں اور نرسوں کا کہنا تھا کہ ان بچو کا علاج کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل کام تھا۔

خیبر پختونخوا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گذشتہ چھ سالوں میں ساڑھے بارہ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور ان میں بیشتر کو پشاور کے لیڈی رڈنگ ہسپتال ہی لایا گیا۔ کسی کی نیم مردہ حالت میں تو کسی کو انتہائی زخمی حالت میں اس ہسپتال میں داخل کیا گیا۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ کے انچارج ڈاکٹر محمد عارف کا کہنا تھا کہ تشدد کے بڑے واقعات کے مریض اس ایمرجنسی وارڈ میں لائے گئے اور یہاں عملے کے تمام ارکان اس طرح کے زخمیوں کا علاج کرنے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن آرمی سکول پر حملے کا واقعہ یکسر مختلف تھا۔

انھوں نے کہا کہ چاہے وہ سینیئر ڈاکٹرز تھے یا جونیئر اور یا دیگر سٹاف، سب رو رہے تھے۔

ڈاکٹرف عارف کے مطابق بڑی تعداد میں معصوم بچوں کی خون میں لت پت لاشیں اور زخمی دیکھ اکثر ڈاکٹر پریشان تھے لیکن پیشہ ورارنہ ذمہ داریاں سب نے احسن طریقے سے ادا کیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک تو بچوں کے رشتہ دار پریشان تھے اور اکثر رو رہے تھے دوسرا بچوں کی حالت دیکھ کر ڈاکٹرز اور عملہ بھی پریشان تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثر بچوں کو تین سے زیادہ گولیاں لگیں تھیں اور بیشتر کو سر اور گردن پر نشانہ بنایا گیا تھا۔

Image caption ’بچوں کو زخمی حالت میں شاید کوئی بھی نہ دیکھ سکے کیونکہ بچے تو پھولوں کی طرح ہوتے ہیں۔‘

شعبہ حادثات کے رجسٹرار ڈاکٹر اصغر نے بتایا کہ انھوں نے جب زخمی بچے دیکھے تو وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے۔

لیڈی رڈنگ ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں کام کرنے والی نرس نرگس قاضی نے بتایا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے خوفناک واقعہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سارا دن زخمی بچوں کی حالت دیکھ کر کچھ راتیں وہ سو نہیں سکیں۔

’ نیند آور گولیاں بھی کھائی لیکن وہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔ بڑوں میں حوصلہ ہوتا ہے لیکن بچوں کو زخمی حالت میں شاید کوئی بھی نہ دیکھ سکے کیونکہ بچے تو پھولوں کی طرح ہوتے ہیں۔‘

نرگس قاضی پانچ سالوں سے اسی وارڈ میں کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس طرح کی ایمر جنسی کی صورتحال میں وی آئی پیز اور ان کے ساتھ عملہ اور کارکنوں کے ساتھ میڈیا کے افراد کے آنے سے شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔

پشاو سکول پر حملے کے بعد میڈیا کے ارکان نے ہسپتال میں مستقل ڈیرے ڈال دیے تھے جبکہ سیاستدان اور دیگر وی آئی پیز جلوس کی شکلوں میں ہسپتال آتے رہے۔

ڈاکٹروں نے اس قسم کے واقعات کے فوراً بعد ایسے افراد کے اندر آنے پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔

اسی بارے میں