’دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی کرنے والی میں کوئی فرق نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption اجلاس میں ملک کی اعلیٰ فوجی اور سول قیادت نے شرکت کی

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی، معاونت اور امداد کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا جائے گا۔

یہ بات منگل کو اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہی گئی ہے۔

اس اجلاس میں بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل، آئی ایس آئی کے سربراہ، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

بیان کے مطابق اجلاس میں شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں جاری فوجیوں کارروائیوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے قومی لائحہ عمل کے طریقۂ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نے کہا: ’ آپریشن ضرب عضب آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا اور دہشت گردوں اور ان کی سرپرستی، معاونت اور امداد کرنے والوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم کا اتحاد ناگزیر ہے اور دہشت گردوں کی تخریبی ذہنیت کو ہر قیمت پر شکست دی جائے گی۔‘

اجلاس کے دوران ملک سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے مختلف قلیل اور وسط مدتی اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف کہہ چکے ہیں اب آپریشن میں اچھے اور برے طالبان میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی جائے گی

وزیر اعظم کی سربراہی میں قانونی ماہرین کا اجلاس بھی منگل کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات کو فوری طور پر نمٹانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم پاکستان نے کہا ہے کہ قوم پشاور ، کوئٹہ اور واہگہ میں پیش آنے والے بربریت کے واقعات کو نہیں بھلائے گی۔

اُدھر وزیر داخلہ کی سربراہی میں قائم کی گئی قومی ایکشن پلان کمیٹی کا اجلاس بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں ورکنگ گروپ کی جانب سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے دی جانے والی سفارشات پر بات ہوئی۔

میڈیا کو اس اجلاس کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی تاہم اجلاس میں موجود ایک سرکاری اہلکار کے مطابق کمیٹی کے مختلف اراکین کی جانب سے بھی تجاویز دی گئی ہیں جن میں فوجی عدالتوں کے قیام اور پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی اُن کی وطن واپسی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے تحفظ پاکستان آرڈیننس پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے دینی مدارس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی کی گئی جو رجسٹرڈ نہیں ہیں اور اپنی آمدنی اور اخراجات کا آڈٹ کروانے سے بھی گریزاں ہیں۔

خیال رہے کہ یہ قومی ایکشن پلان کمیٹی گذشتہ ہفتے پشاور میں طالبان کے سکول پر حملے میں 141 افراد کی ہلاکت کے بعد قائم کی گئی تھی اور اسے ایک ہفتے میں سفارشات پیش کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ایک ہفتے کی یہ مدت بدھ کو ختم ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں