نوسیری:تعمیراتی حادثے میں چینی انجینیئر سمیت چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان نے دریائے نیلم پر ایک ہزار میگاواٹ کے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے پر تعمیر کا کام شروع کر رکھا ہے

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نیلم جہلم ہائیڈل منصوبے کے مقام پر تعمیراتی حادثے میں ایک چینی انجینیئر سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس منصوبے کی سکیورٹی پر مامور ایس پی مشتاق چوہدری نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس حادثے میں ایک چینی شہری سمیت دو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مظفر آباد سے صحافی اورنگزیب جرال نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حادثہ بدھ کو مظفر آباد سے 27 کلومیٹر دور نوسیری کے مقام پر پیش آیا ہے۔

انھوں نے حکام کے حوالے سے کہا کہ نیلم جہلم منصوبے کے سی ون فیز میں کنکریٹ کی دیوار تعمیر کرنے کے لیے لوہے کے سریوں کا ایک بڑا جال تیار کیا جا رہا تھا۔ بدھ کو یہ جال تعمیراتی مقام پر کام کرنے والے چھ افراد پر آ گرا اور اس کی زد میں آ کر چین سے تعلق رکھنے والے انجینیئر اور چار مقامی مزدور ہلاک ہوگئے۔

حادثے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور لاشوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔

پاکستان نے دریائے نیلم پر ایک ہزار میگاواٹ کے نیلم جہلم پن بجلی منصوبے پر تعمیر کا کام شروع کر رکھا ہے۔

اس کا سنگِ بنیاد پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے فروری 2008 میں رکھا تھا۔

اس منصوبے کے تحت دریائے نیلم کا پانی 47 کلومیٹر طویل سرنگ سے گزار کر چھتر کلاس کے مقام پر دریائے جہلم میں گرایا جائے گا۔